پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید کے گھر پر چھاپہ

datetime 31  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی )سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح پھر میرےگھر پر چھاپہ پڑا ۔ رینجر ز،پولیس اور سول کپڑوں میں 90لوگ میرے گھر میں داخل ہوئے۔میرے گھر کے دروازے توڑے گئے میں گھرمیں موجودنہیں تھا،میرے ملازمین کومارکرانکابازوتوڑدیا گیا۔شیخ رشید نے الزام لگایا کہ میری گاڑیاں، لائسنسی اسلحہ اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لےگئے۔

علاوہ ازیں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاہے کہ تین آدمیوں کو میرے قتل کا ٹاسک دے دیا گیا ہے، میری جان کو خطرہ ہے،موت اور حیات کی کشمکش میں ہوں، القادر ٹرسٹ کیس میں جھوٹی گواہی نہیں دے سکتا، ہمارے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے،چیف جسٹس آف پاکستان صورتحال کا نوٹس لیں۔

اپنے ویڈیو بیان میں شیخ رشید احمدنے کہاکہ لوگ آسمان کے بعد سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں،آپ نے بھی فیصلے نہ لئے تو ملک تباہ ہو جائیگا۔ سابق وزیر نے کہاکہ ریاست اور سیاست کو گندا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 3 آدمیوں کو میری زندگی کے خاتمے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے،موت اور حیات کی کشمکش میں ہوں۔شیخ رشید احمد نے کہاکہ میں القادر ٹرسٹ کے ایجنڈے کے وقت موجود نہیں تھا۔ سابق وزیر نے کہاکہ مجھ پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہو تو میں پیش ہونے کو تیار ہوں۔

انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کو بتانا چاہتا ہوں دھرتی پر ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان تمام صورتحال کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہاکہ میرا جینا حرام اور مشکل کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیر نے کہاکہ میری شہزاد اکبر سے کبھی نہیں بنی،شہزاد اکبر کے ایجنڈے میں کبھی نہیں بیٹھا۔ انہوں نے کہاکہ جھوٹی گواہی دینے بہتر ہے موت کو ترجیح دوں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،ہمارے گھروں میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…