ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اسد عمر کو فوری رہا کرنے کا حکم

datetime 24  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر و رہنما پاکستان تحریک انصاف اسد عمر کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔اسد عمر کے کیسز کی تفصیلات فراہمی اور گرفتاری کے خلاف کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی ،ان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وہ تو آپ کو نہیں چھوڑیں گے، جب تک آپ پریس کانفرنس نہیں کریں گے ۔

اس پر بابر اعوان نے کہا کہ پریس کانفرنس تو ہم نہیں کریں گے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ہدایت دی کہ اسد عمر کے دو ٹوئٹس ہیں، وہ تو فوراً ڈیلیٹ کروائیں، اس پر بابر اعوان نے کہا کہ اگرچہ یہ خبر ہے لیکن ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔بابر اعوان نے استدعا کی کہ عدالت اسد عمر کو اس عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ اسد عمر کے خلاف کیسز میرے سامنے ہیں، اگر میں کوئی آرڈر کر دوں تو کل کیا ہوگا مجھے نہیں معلوم۔بابراعوان نے کہا کہ ہم نے کیسز کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست دی تھی، ہم چاہتے ہمیں دو دن دے دیں تاکہ اگر ، اگر رہائی ہو تو ہم متعلقہ عدالت میں سرینڈر کر دیں، جو کریمنل کیس درج ہیں ہم ان میں حفاظتی ضمانت چاہتے ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ہم نے شاہ محمود قریشی کو بھی بیان حلفی جمع کرانے کا کہا تھا، اس میں یہی تھا کہ 144 سیکشن کی خلاف ورزی نہ ہو۔

بابر اعوان نے کہا کہ اس سے قبل لوگ عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں، احتجاج ہمارا حق ہے، دلائل سننے کے بعد عدالت نے اسد عمر کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار دے دی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اسد عمر بیان حلفی جمع کروائیں، اگر بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو پھر سمجھیں کہ سیاسی کیریئر بھول جائیں۔

ٹوئٹس بھی ڈیلیٹ کریں۔خیال ہے کہ 10 مئی کو سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد رہنماؤں کی گرفتاری کے جاری سلسلے میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔اسد عمر کو انسداد دہشت گردی فورس نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 16 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…