پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عمران ریاض کی زندگی کی فکر ہے ، جو کوئی بھی ذمہ دار ہوا وہ نہیں بچے گا ‘ لاہور ہائیکورٹ

datetime 22  مئی‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ جو کوئی بھی ذمہ دار ہوگا وہ نہیں بچے گا، جس کے حکم پر عمران خان کو اٹھایا گیا وہ بھی نہیں بچے گا، عدالت چاہتی ہے عمران ریاض کی زندگی کو خطرہ نہ ہو، عدالت ان کو موقع دے رہی ہے کہ ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہ جائے۔

پیر کے روز لاہور ہائیکورٹ میں اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب عثمان انور سے استفسار کیا کہ جی آئی جی صاحب کیا پیشرفت ہے، کیا عمران ریاض خان کے گھر پرچھاپے سے متعلق تفتیش کی۔آئی جی پنجاب عثمان انور نے عدالت کو بتایا کہ وہ چھاپہ پولیس نے نہیں مارا تھا، ہمیں عمران ریاض مطلوب نہیں تھا، اگر کسی ایجنسی نے اٹھایا ہے تو کہہ نہیں سکتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے آپ عدالت کے حکم کو سمجھے نہیں، اگر آپ پیش رفت نہیں دکھا رہے تو آپ کے خلاف کاروائی شروع کرتا ہوں۔آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ جوعدالت نے سوال پوچھا اس کا جواب دیا، خفیہ ایجنسی سے بھی رابطہ کیا ہے، ہم نے تمام ایجنسیوں سے رابطہ کیا، میٹنگز کیں، پاکستان کی کسی بھی ایجنسی کے پاس عمران ریاض موجود نہیں، ہم نے آف دی ریکارڈ سب سے رابطے کیے ہیں، عدالت وزرات دفاع اور وزارت داخلہ کو نوٹس کردے تو معاونت ہو سکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے عمران ریاض کی زندگی کی فکر ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ کہہ رہے ہیں عمران ریاض پنجاب میں نہیں۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم پر شک کیا جا رہا ہے کہ کہیں ہم ملوث ہیں، میرے تابع کوئی ایجنسی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں آپ نے بازیابی کے لئے کیا اقدامات کیے، ورنہ آپ کے خلاف کارروائی کروں گا۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے کل رات بھی میٹنگ کی ہے ساری ایجنسیوں کے لوگ آئے تھے، پورے پاکستان کی پولیس سے پوچھ لیا ہے کسی کے پاس عمران ریاض نہیں، عدالت سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع سے بھی اس بارے جواب مانگے، انہیں کہا جائے کہ ہماری مدد کریں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو مزید وقت چاہیے۔آئی جی نے جواب دیا کہ جی بالکل ہم نے خود وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے تمام کے نوٹس لے ہیں، جو کوئی بھی ذمہ دار ہوگا وہ نہیں بچے گا، جس کے حکم پر عمران خان کو اٹھایا گیا وہ بھی نہیں بچے گا، عدالت چاہتی ہے عمران ریاض کی زندگی کو خطرہ نہ ہو، عدالت ان کو موقع دے رہی ہے کہ ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہ جائے۔عدالت نے عمران ریاض کی بازیابی کے لئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…