بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

اپنی آزادی لینے کا وقت ، ہم سب کو قربانیاں دینی پڑیں گی ، عمران خان کی عوام کو پرامن احتجاج کیلئے تیار رہنے کی ہدایت

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عوام کو اگلی کال پر پر امن احتجاج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو گرفتار اور اغواء کر کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ، یہ ظلم عوام کو غلام بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے

عوام نے اس خوف کے بت کو توڑنا ہے۔انہوںنے عوام کے نام خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب چنگیز خان ایک شہر فتح کرتا تھا تو قتل عام کرتا تھا اور پھر جو چند لوگ زندہ چھوڑتا تھا انکو چاروں طرف پھیلا کر کہلواتا تھا کہ جاکر دنیا کو بتائو میں کتنا ظالم ہوں، میری کتنی دہشت ہے، اسکے نتیجے میں تمام شہر بغیر مزاحمت کیے ہاتھ کھڑے کرلیتے تھے، پاکستان میں بھی آج اس صورتحال سے گزر رہا ہے، ظلم کی داستانیں ٹی وی پر چلائی جا رہی ہیں، لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، جنکی وڈیوز سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر چلائی جا رہی ہیں، عورتوں پر کبھی کہیں ایسا ظلم رواں نہیں رکھا گیا جو بے حرمتی اور ظلم آج پاکستان میں عورتوں پر کیا جارہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ سڑکوں پر کھڑے لوگوں کو گرفتار اور اغواء کر کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، یہ ہر قسم کا خوف اس لیے پھیلایا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو ڈرایا جاسکے اور کوئی بھی مزاحمت کے لیے باہر نہ نکلے، یہ ظلم عوام کو غلام بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میرے پاکستانیوں یہ وقت اپنی آزادی لینے کا ہے، حقیقی آزادی کے لیے ہم سب کو قربانیاں دینی پڑیں گی،جب عوام ایک بار فیصلہ کرلے ہم نے یہ ظلم برداشت نہیں کرنا اور آئین و قانون اور عدلیہ کی بالادستی کروانی ہے، ہمیں آئینی طریقے سے آزادانہ انتخابات چاہیے، ہمیں اپنے منتخب کردہ نمائندے چاہیے اور چوروں کی حکمرانی سے نجات چاہیے تو اس وقت ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہو جائیں گے ،عوام نے اس خوف کے بے کو توڑنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ جب بھی احتجاج کی کال آئے عوام نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے پر امن طریقے سے اپنے گھروں سے نکلنا ہے۔



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…