منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستان فضائی آلودگی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں تیسرا ملک بن گیا

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

برلن(نیوزڈیسک)پاکستان میں فضائی آلودگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔پاکستان میں توانائی کی ضروریات اور گاڑیوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے جوکہ ملک میں آلودگی کا بحران بڑھانے کی بنیادی وجہ ہے جس کے باعث سالانہ 80 ہزار افراد علاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور 8 ہزار شدید کھانسی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ 2010 کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان میں ایک لاکھ 10 ہزار افراد فضائی آلودگی کے باعث مخلتف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
فضائی آلودگی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں چین کا پہلا نمبر ہے جہاں ہر سال 10 لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں جب کہ بھارت کا نمبر دوسرا ہے جہاں ہر سال ساڑھے 6 لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جب کہ اس حوالے سے بنگلا دیش چوتھے، نائجیریا پانچویں اور روس چھٹے نمبر پر ہے۔ماحولیاتی آلودگی اور اس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں بھارت کی صورتحال روزبروز خراب ہورہی ہے جس میں دہلی سرفہرست ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ 10 سالوں میں اس کا شمار فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہوگا۔ جرمنی کے ایک سائنسی تحقیقاتی ادارے کے مطابق 2025 تک دہلی میں 32 ہزار افراد آلودہ فضا میں سانس لینے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ گزشتہ سال عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں میں سے 13 شہر بھارت کے تھے جس میں نئی دہلی پہلے نمبرپر تھا۔
دنیا کے مخلتف خصوصاً پسماندہ ممالک میں فضائی آلودگی کے باعث، سانس کے امراض، کینسر، فالج اور عارضہ قلب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں سالانہ 33 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اور اگر زہریلی گیسوں کا اخراج اسی طرح جاری رہا تو 2050 تک ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہوجائے گی۔
ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہوا میں بڑھتی ہوئی کثافت اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس سے نہ صرف دنیا بھر کی معیشت شدید متاثر ہو گی بلکہ انسانی صحت پر بھی اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوں گے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…