ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہیں؟ اس سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا، جسٹس اطہرمن اللہ

datetime 8  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے باوجود سینئر وکیل طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج نہ بنائے کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کیلئے طلب کرلیا۔طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی سماعت ہوئی۔

طارق آفریدی کے وکیل حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن نے طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دی تاہم جوڈیشل کمیشن کی سفارش کے باوجود طارق آفریدی کو ایڈیشنل جج تعینات نہ کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی نے طارق آفریدی کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹ پر نامزدگی مسترد کی جس میں کہا گیا تھا کہ کہا گیا تھا کہ طارق آفریدی کی ساکھ اچھی نہیں۔دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہیں؟ اس سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پیشہ وارانہ صلاحیت کے بجائے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت معاملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے گی کہ کیا پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرسکتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کیلئے بلا لیتے ہیں۔سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل طارق آفریدی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 2جولائی 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن لیکن پارلیمانی کمیٹی نے اس سفارش کو مسترد کردیا تھا۔پارلیمانی کمیٹی نے 8 جولائی 2019 کے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق آفریدی کی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرری آئین پاکستان کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے مالی معاملات درست نہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر اہل نہیں اور انہوں نے قانون و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

اپنی درخواست میں طارق آفریدی نے سوال کیاتھا کہ کیا ایک ایڈیشنل جج کے عہدے کے امیدوار کی اہلیت، قابلیت اور ساکھ کو جانچنا پیمانہ پارلیمانی کمیٹی کی ذمے داری ہے یا جوڈیشل کمیشن کی اور ان کا تقرر نہ کرنے کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ وجوہات متصبانہ، بدنیتی پر مبنی اور ناقابل قبول ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ وفاقی حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات منظور کرنے کے لیے مناسب احکامات جاری کرتے ہوئے پابند کرے کہ ان کی ایک سال کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کی حیثیت سے تقرری کے لیے صدر مملکت کو سفارشات ارسال کی جائیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے مارچ 2020 میں درخواست گزار کی استدعا قبول کرتے ہوئے طارق آفریدی کی اہلیت کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے ریمارکس کو حذف کردیا تھا اور ان کے معاملے کو دوبارہ زیر غور لانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم دیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے ان کی تقرری کی سفارش کے باوجود پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج نہ بنائے جانے پر درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک دن قبل ہی مسلم لیگ(ن) کے حمایت یافتہ طارق آفریدی پشاور ہائی کورٹ کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…