بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

شام میں روس کے لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی موجودگی کا سراغ

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |
Russian MI-28 attack helicopters fly during the Army-2015 show at a shooting range in Alabino, outside of Moscow, Russia, on Tuesday, June 16, 2015. Russia’s military this year alone will receive over 40 new intercontinental ballistic missiles capable of piercing any missile defences, President Vladimir Putin said Tuesday in a blunt reminder of the nation’s nuclear might amid tensions with the West over Ukraine. (AP Photo/Ivan Sekretarev)

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکا نے شام میں ایک فضائی اڈے پر روس کے چند ایک لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ شام میں روس کے چار ہیلی کاپٹروں کا پتا چلایا گیا ہے۔ان میں ہیلی کاپٹر گن شپ بھی شامل ہے۔البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ لڑاکا ہیلی کاپٹر کب شام پہنچے تھے۔قبل ازیں برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے امریکی جائزے کی بنیاد پر یہ اطلاع دی تھی کہ روس نے نیول انفینٹری فورسز کے قریباً 200 اہلکار شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت کے لیے بھیجے ہیں۔ان کے علاوہ شامی صدر کے آبائی شہر اللاذقیہ کے نزدیک واقع ایک فضائی اڈے پر ٹینک ،توپ خانہ اور دوسرا فوجی سامان بھیجا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے فوجی آلات کی شام میں منتقلی کا مقصد بظاہر فضائی کارروائیوں کی تیاری نظر آتا ہے جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک بھی شام میں داعش کے جنگجوو¿ں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔امریکا اور اس کے اتحادی ممالک شام اور عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر گذشتہ ایک سال سے بمباری کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑنے کے لیے اعتدال پسند باغی جنگجو گروپوں کی بھی حمایت کررہے ہیں۔اس کا یہ اصرار ہے کہ شامی حکومت تو بہ ذات خود ایک مسئلہ ہے اور وہ تنازعے کا حل تلاش کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔جبکہ روس کا موقف ہے کہ اسدی فوج داعش سمیت انتہا پسند گروپوں کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور اس نے اس کے لیے ہتھیار اور فوجی سازوسامان مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔روس کے فوجی مشیر اسدی فوج کو تربیت بھی دے رہے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…