اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزارت داخلہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل)کے ناموں کے اندراج کے حوالے سے پالیسی جاری کردی ہے جس کے تحت ای سی ایل میں نام عدالتوں ،دفاعی محکموں اوراداروں کی سفارش پر ڈالاجائیگا اورپہلی مرتبہ اپیل کاحق بھی دیاگیاہے جس پر وفاقی حکومت ساٹھ روز میں فیصلے کی مجاز ہوگی جبکہ 4987افراد کے نام اس فہرست سے خارج کردیئے گئے ہیں اورصرف ان لوگوں کے نام باقی رکھے گئے ہیں جن کی مدت تین سال سے کم ہے اور جو ریاست مخالف سرگرمیوں ،دہشتگردی ،کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں،وزارت داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مستقبل میں یہ پالیسی وضع کی گئی ہے کہ ای سی ایل میں نام سپریم کورٹ ،ہائی کورٹس ،ٹریبونلز، دفاعی اداروں، ایف آئی اے ، نیب اوروفاقی حکومت کی سفارش پر ہی ڈالاجائیگا،۔پالیسی کے مطابق ملک کیخلاف جاسوسی، تخریب کاری، دہشتگردی اور ریاست کیخلاف سازش پر نام ای سی ایل میں ڈالاجائیگا۔ پالیسی کے مطابق ملکی دفاع ،سلامتی اوراس کی ساکھ کیخلاف کسی اقدام پرنام ڈالاجائیگا علاوہ ازیں منشیات کے نقل وحمل انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ ،کالعدم تنظیموں سے متعلق شخصیات کے ساتھ ساتھ دفاعی یاسیکیورٹی فورس کی سفارش پرنام ای سی ایل میں ڈالاجائیگا پالیسی کے مطابق ان لوگوں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالے جاسکیں گے جو قومی دولت لوٹنے اور ادارے کی بنیاد پر فراڈ میں ملوث ہونگے پالیسی کے مطابق ایسے لوگوں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے جو پانچ کروڑ روپے سے زائد ٹیکس یاقرضے کے نادہندہ ہوں یا انہوں نے کسی سرکاری ادارے میں بطور ڈائریکٹر فراڈ کیاہو اور جو فراڈ دس کروڑ یا اس سے زائد کاہو اس مقصد کیلئے بنائی گئی کمیٹی ان تمام امورکاجائزہ لے گی پالیسی کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک سال کیلئے نام ای سی ایل میں ڈالاجائیگا جس کے بعد وزارت داخلہ کی کمیٹی اس کاجائزہ لے گی اور متعلقہ ادارے یامحکمے کو سفارشات پیش کرے گی دہشتگردی ، جاسوسی ،تخریب کاری ،ریاست مخالف کارروائی، منشیات اورانسانی سمگلنگ کے علاوہ ای سی ایل میں نام تین سال کیلئے ڈالاجائیگا ۔ پالیسی کے مطابق جس کانام ای سی ایل میں ڈالاجائیگا وہ پندرہ دن میں وفاقی حکومت سے اپیل کرسکتا ہے اوراس پرنظرثانی کی جاسکتی ہے وفاقی حکومت اس حوالے سے ساٹھ روز میں فیصلہ کرے گی وزارت داخلہ کی کمیٹی متعلقہ حکام کی مشاورت سے ہر تین ماہ بعد جائزہ لے گی اور ان لوگوں کے کیسوں کاجائزہ لیاجائیگا جن کی قانونی مدت ختم ہونیوالی ہو وزارت داخلہ کی یہ کمیٹی ایڈیشنل سیکرٹری سوم ، جوائنٹ سیکرٹری قانون ، حکومت یا ایف آئی اے کے جوائنٹ سیکرٹری ،متعلقہ محکمے کے نمائندے پرمشتمل ہوگی جبکہ سیکشن افسر ای سی ایل کمیٹی کیلئے سیکرٹری کے امور سرانجام دینگے۔
ای سی ایل ،نئی پالیسی جاری ، 4987افراد کے نام خارج
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































