منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

اینٹی بیکٹیریل صابن سے جراثیم نہیں مرتے

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ اینٹی بیکٹیریل صابن انسانی جسم پر موجود جراثیموں کو مارنے اور ان کی افزائش کو روکنے میں انتہائی کارآمد اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اینٹی بیکٹیریل صابن استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایسے صابنوں کی صرف امریکا میں فروخت قریبا ایک ارب ڈالرز کی ہے۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اینٹی بیکٹیریل صابن بنانے والی کمپنیوں کے دعوئوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جراثیم کش (اینٹی بیکٹیریل) صابن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن ہے جس کی وجہ سے کچھ پیچیدگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہاتھ چاہے اس اینٹی بیکٹریل صابن سے دھوئے جائیں یا عام صابن سے، جراثیموں کے حوالے سے کوئی بڑا فرق نہیں دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن صرف اس وقت کارگر ہوتا ہے اگر یہ جراثیم 9 گھنٹوں تک اس میں ڈبو دیے جائیں جو ظاہر ہے کسی شخص کے لئے ممکن نہیں ہے۔
اپنی تحقیق کو سچ ثابت کرنے کیلئے طبی ماہرین نے خطرناک جراثیموں کو عام صابن اور جراثیم صابن کے محلولوں میں رکھا۔ اس تحقیق میں جراثیموں کو مختلف افراد کے ہاتھوں پر بھی لگایا گیا اور ان میں سے کچھ کو ایک ہفتے تک اینٹی بیکٹیریل صابن سے جبکہ کچھ کے عام صابن سے ہاتھ دھلوائے گئے۔ ان تجربات کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ عام صابن اور جراثیم کیش (اینٹی بیکٹیریل) صابن جراثیموں کے خاتمے کے اعتبار سے کسی بڑے فرق کے حامل نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اینٹی بیکٹریل صابن صرف اس وقت کارگر دیکھے گئے ہیں۔ امریکا کا محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) اس کے استعمال پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔

مزید پڑھئے:نادرا نے ریکارڈ قائم کردیا



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…