ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

محکمہ تعلیم کی غفلت اور لاپرواہی سے ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ

datetime 19  اپریل‬‮  2023 |

جہانیاں (این این آئی) محکمہ تعلیم کی غفلت اور لاپرواہی سے ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ، سرکاری اسکولوں کو مفت فراہم کی جانے والی درسی کتب تعلیمی اداروں میں بروقت نہ پہنچائی جا سکیں-درسی کتب نہ ملنے اور اردو سے انگلش میں نصاب تبدیل کرنے پر طلبا طالبات، اساتذہ اور والدین شدید پریشان-تفصیل کے مطابق

نئے تعلیمی سال کا آغاز یکم اپریل سے ہوچکا ہے اور تقریباً تین ہفتے گزرنے کے باوجود تاحال جماعت اول تا نہم کے سرکاری سکولوں کے طلبا وطالبات کو متعدد مضامین کی نصابی کتب فراہم نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے بچوں کا تدریسی عمل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے. کتابیں نہ ہونے اور مارکیٹ میں مہنگی کتب ہونے کے باعث بہت سے والدین پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ انکی اتنی استطاعت نہیں کہ بازار سے کتابیں خرید سکیں۔ بعض بچے بغیر کتابوں کے سکول تو جاتے ہیں لیکن صرف وقت گزارنے کے لئے جبکہ ان میں سے کچھ نے سکول آنا ہی چھوڑ دیا ہے. محکمہ تعلیم کا دعویٰ ہے کہ ہم واحد قومی نصاب پر تعلیم دے رہے ہیں اور معیاری تعلیم دے رہے ہیں،لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے سرکاری سکولوں میں بچوں کو نصاب اردو میں پڑھایا جا رہا تھا کہ امسال اردو میڈیم کے بچوں کو انگلش میڈیم کا نصاب لاگو کر دیا گیا ہے جو اردو میڈیم کے بچوں کیلئے سمجھنا مشکل ہے، والدین کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی سیشن یعنی یکم اپریل 2023 کے آغاز سے قبل سرکاری اسکولوں کو اردو میں نصابی کتب بروقت فراہم کرے سکولوں میں بعض مضامین کی کتابوں کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے طلبہ کا وقت ضائع ہورہا ہے اور ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے. والدین کا کہنا ہے کہ کتابیں بروقت فراہم نہ کرنے کی کسی کو فکر نہیں کیونکہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں.

اس لئے سرکاری سکولوں میں صرف فوٹو سیشن کر کے اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ دے دی جاتی ہے. طلباء و طالبات، والدین اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری ایجوکیشن سے نوٹس لے کر فوری طور پر سرکاری سکولوں میں اردو میڈیم کے مطابق درسی کتب مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…