واشنگٹن(نیوز ڈیسک) عالمی طبی ماہرین نے ناقص غذا اور ہائی بلڈ پریشر کو قبل ازوقت اموات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ممتاز طبی تحقیقی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کو یونیورسٹی آف واشنگٹن اور یونیورسٹی آف میلبرن نے مرتب کیا ہے جس میں 1990 سے لے کر 2013 تک موت کی وجہ بننے والے 79 خطرات کو نوٹ کرنے کے لیے 188 ممالک کا ڈیٹا جمع کیا گیا جس میں دیگر خطرات کے علاوہ خراب اور ناکافی خوراک اور بلڈ پریشر کو اموات کی سب سے عام وجہ قرار دیا گیا ہے اس کے علاوہ روس میں شراب نوشی، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکا میں موٹاپے، جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی، بھارت میں آلودہ پانی اور برطانیہ سمیت کئی امیر ممالک میں سگریٹ نوشی کو صحت کی خرابی اور قبل ازوقت اموات کی پہلی وجہ کہا گیا ہے۔افریقہ اور صحرائی خطے کے ممالک میں بچے کی ناقص خوراک، پینے کے آلودہ پانی اور شراب نوشی جیسے خطرات نمایاں ہیں اس کے علاوہ غیرمحفوظ جنسی تعلق سے 2013 میں 15 سے 19 سالہ افراد میں ایچ آئی وی سے 82 فیصد اموات واقع ہوئی ہیں جس کا مرکز جنوبی افریقا ہے۔
ماہرین کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے استعمال، تمباکو نوشی سے پرہیز، باقاعدہ ورزش اور صاف پانی کی فراہمی سے قبل از وقت اموات کے خطرے کو بڑی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے بلڈ پریشر اور ناقص غذا کو قبل از وقت موت کی بڑی وجہ قرار دیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































