ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

موجودہ آئینی بحران ،سیاسی و آئینی ماہرین نے چیف جسٹس کو بڑا مشورہ دیدیا

datetime 9  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (اے پی پی)سیاسی و آئینی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ آئینی بحران کے خاتمے کےلئے چیف جسٹس کوعدالت عظمیٰ کے تمام ججوں کوساتھ لے کر چلنا چاہئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اورجسٹس اطہر من اللہ سمیت چار ججز کے اختلافی نوٹ سے واضح ہو گیا ہے کہ

یہ چار تین کا فیصلہ ہے، اگر اس معاملے کو حل نہ کیا گیا تو بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے ۔سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا کہ پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ یہ چار تین کا فیصلہ ہے، اکثریتی ججز نے سو موٹو ایکشن کو غلط، غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیا تھا، اختلافی نوٹ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ بنچ سے خود الگ نہیں ہوئے بلکہ انہیں الگ کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کلیئر ہو گئی ہے کہ یہ فیصلہ چار تین کا ہے، پاکستان مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے چیف جسٹس آف پاکستان کوججز کو ساتھ لیکر چلنا ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمابیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز قانونی طور پر ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں،چار ججز کہہ چکے ہیں کہ وہ سوموٹو کے ایکشن کو مسترد کر چکے ہیں اور 184/3 کے تحت جانے کی ضرورت نہیں تھی، چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہئے کہ وہ برادر ججز کو ساتھ لیکر چلیں تاکہ یہ بحران مزید شدت اختیار نہ کرے ، جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں واضح کہا ہے کہ انہیں بنچ سے الگ کیا گیا ہے، چیف جسٹس کو اس معاملے پر اجلاس بلوانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…