ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اسرائیل کی مذمت نہیں، پابندیاں لگائی جائیں، فلسطین

datetime 7  اپریل‬‮  2023 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی ) فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کافی نہیں بلکہ اب پابندیاں لگائی جائیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے مسجد اقصی پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کہا کہ سلامتی کونسل کے طلب کردہ اجلاس میں

اسرائیلی حملوں کی مذمت کی جائے گی جو کافی نہیں ہو گا بلکہ اب اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں۔انہوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ ایک دہشتگرد، سرکش قابض اور ظالم ریاست کے طور پر اسرائیل پر پابندیاں لگائی جائیں۔واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف 8 اپریل کو اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں روایتی انداز سے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی جائے گی۔فلسطین پر اسرائیلی حملے کے فوری بعد سعودی وزارت خارجہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی کی اس دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہیں یہ نہ صرف امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے بلکہ مذہبی مقدمات کے حوالے سے بین الاقوامی قواعد اور اصولوں سے متصادم بھی ہے۔  فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کافی نہیں بلکہ اب پابندیاں لگائی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…