منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

شوگرملزکے مسائلکیلئے صوبائی سطح پر کمیٹیاں بنانے کااعلان

datetime 15  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے پیر کو پاکستان سوسائٹی آف شوگر ٹیکنالوجسٹس کے 49ویں سالانہ 2 روزہ کنونشن کا افتتاح کیا۔اس موقع پر سکندر حیات خان بوسن نے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ شوگر ملز مالکان کے مسائل حل کرنے کیلیے صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، پیداواری صلاحیت کے مطابق ملز کو مطلوبہ مقدار میں گنا نہیں مل رہا، شوگر ملز اور گنے کی پیداوار دونوں ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزوم ہیں،گنے کے کاشتکاروں کو تاخیر سے رقم کی ادائیگی میں مڈل مین کا ہاتھ ہوتا ہے، گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ مل کر ان کے مسائل حل کریں گے اور کاشتکاروں کو حکومتی سطح پر گنے کے اچھے نرخ بھی دلوائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ انڈسٹریز کو مشکلات پیش آئیں، ہم گنے کے کاشتکاروں کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے لیکن یہاں ریسرچ کا کام نہیں ہوتا جبکہ پاکستان میں ریسرچ پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میں شوگر کین ریسرچ اینڈ برانڈنگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان سوسائٹی آف شوگر ٹیکنالوجسٹس میں اتنی صلاحیتیں ہیں کہ وہ شوگر سیکٹر اور اس سے منسلک دیگر شعبے میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے، امید ہے کہ اس سیمینار میں پی ایس ایس ٹی اور پی ایس ایم اے شوگر سیکٹر کی فلاح اور ترقی کیلیے بات کریں گی۔ اس موقع پر پی ایس ایس ٹی کے صدر مراد علی بھٹی، سابق صدر ساجد حسین نقوی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…