ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

4 اپریل کو ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا،اسی تاریخ کو پھرعدل و انصاف کا قتل ہوا، وزیر اعظم شہباز شریف

datetime 4  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ کی ستم ظریقی ہے کہ 4 اپریل کو ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور چار اپریل کو ہی کے دن الیکشن کے حوالے سے جو پچھلے 72 گھنٹوں میں کارروائیاں ہوئیں، ایک مرتبہ پھر 4 تاریخ کو عدل و انصاف کا قتل ہوا،ملک کو 1973 کا متفقہ آئین دینا پاکستان کی تاریخی خدمت تھی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جیسا کہ وزیر قانون نے فرمایا کہ کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عدالت قتل کا جو ریفرنس 12 سال سے پڑا ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس حوالے سے فل کورٹ بیٹھے اور فیصلہ کرے۔انہوںنے کہاکہ پوری دنیا سمجھتی ہے کہ یہ 1973 کے متفقہ آئین کے بانیوں میں شامل ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا ایک عدالتی قتل تھا، ملک کو 1973 کا متفقہ آئین دینا پاکستان کی تاریخی خدمت تھی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، اگر میں غط نہیں تو فیصلہ کرنے والے ایک جج نے بھی بعد میں اپنی یادداشت میں اس بارے میں اعتراف کیا تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کیسا تاریخ کا جبر ہے کہ 4 اپریل ہی کے دن سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور 4 اپریل کو ایک مرتبہ پھر عدل و انصاف کا قتل ہوا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے اسپیکر سے اپیل کی کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لیے ایوان میں کرائی جائے جس پر مولانا اسعد محمود نے سابق ویزراعظم کے لیے دعا کرائی۔قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں کہا کہ ایک ضدی شخص کی انا کی تسکین کے لیے دو اسمبلیاں توڑی گئیں، اس اقدام کا مقصد ملک میں سیاسی تقسیم کی داغ بیل ڈالنا تھا۔وزیرقانون نے کہا کہ گزشتہ روز اسی ایوان میں قائد ایوان نے عدالت عظمیٰ میں جاری آئینی مقدمہ پربات کی تھی، میں نے ایوان کومقدمہ کی تفصیلات سے آگاہ کردیاتھا ، پورے ملک نے سماعت دیکھی اورپڑھی ہے۔

وزیرقانون نے کہاکہ جب ایک ضدی شخص کی انا کی تسکین کیلئے دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل ہوئی توسنجیدہ حلقوں نے اس کی مخالفت کی اوراس پرتحفظات کا اظہارکیا کیونکہ اس اس کا بنیادی مقصد سیاسی تقسیم کی داغ بیل ڈالنی تھی۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوارمیں عام انتخابات پر انگلیاں اٹھائی گئی، جس کی ہم نے قیمت چکائی ہے۔ اگر1977کے انتخابات کسی نگران سیٹ اپ کے تحت ہوتے تونتائج ملے جلے ہوتے اور 11 سالہ ماشل لانہ لگتا جس کی قیمت ہماری نسلیں دے رہی ہے۔

وزیرقانون نے کہاکہ اسی موقر ایوان نے پچھلے ہفتہ اپنا آئینی فریضہ اداکرتے ہوئے قرارداد منظورکی اورمطالبہ کیا کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیا جائے، ازخودنوٹس کے فیصلے میں مقدمات خارج کردئیے گئے تھے، فیصلہ میں کہاگیا تھا کہ یہ صوبوں کے مسائل ہیں،اس ایوان نے استدعاکی کہ عدل کے ایوان میں تقسیم ہے اسلئے اس معاملہ کوفل کورٹ میں لے جایا جائے ،

ہاتھ جوڑ کراستدعا کی کہ اس معاملہ کوانا اورضد کا معاملہ نہ بنایا جائے بلکہ آئینی اورسیاسی بحران کے خاتمہ کیلئے فل کورٹ میں معاملہ سنا جائے مگر افسوس کے ایسا نہ کیا گیا، سیاسی جماعتوں کے وکلاء کو فریق نہیں بنایاگیا، اٹارنی جنرل نے بھی ساری باتیں بنچ کے سامنے رکھی اوراپیل کی کہ معاملہ فل کورٹ میں بھیجا جائے یا ان ججز کوبھیجا جائے جواب تک کسی بینچ کاحصہ نہیں بنے ہین۔

وزیرقانون نے کہاکہ آج تین رکنی بینچ نے ان اپیلوں کونظرانداز کرتے ہوئے خود ہی شیڈول جاری کردیا، ہم انتخاب سے بھاگنے والے نہیں۔ وزیرقانون نے کہاکہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنایا کہ ازخودنوٹس کے تحت سماعتیں فل کورٹ میٹنگ کے بعد ہی ہوں گی،اس عدالتی فیصلہ کوانتظامی سرکلر کے ذریعہ ختم کردیا گیا اور آج چھ رکنی بینچ بنایا گیا

جس نے ایک گھنٹہ کے بعد تین رکنی بینچ کے فیصلہ کوختم کردیا ، ایک طرف کہاگیا کہ اس فیصلہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اوردوسری طرف اس کیلئے چھ رکنی بینچ بنا دیا گیا، کیا اس طرح کی عجلت سے ملک، آئین اورقانون کو استحکام ملے گا، انہوں نے کہاکہ ایسے آئین اورقانونی مقدمات جو قوم کی تقدیر سے جڑے ہوتے ہیں انہیں تحمل سے سب کواکھٹا بٹھاکرسناجاتا ہے،

انا، ادارہ جاتی تسلط کو نہیں دیکھا جاتا، ہم آئینی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، ادارے کے اندر سے آواز آئی ہے کہ ون مین شوچل رہاہے، اکثریتی فیصلہ کواقلیتی فیصلہ سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، 184 کے حوالہ سے فیصلہ پر جو طرزعمل اپنایا گیا وہ درست نہیں۔ فیصلہ سے انصاف کے اصولوں کی پامالی ہوئی ہے اوراس پراحتجاج ہمارا حق ہے،۔ وزیرقانون نے کہاکہ آج کابینہ میں سابق وزیراعظم ذولفقارعلی بھٹو کی روح کیلئے فاتحہ خوانی ہوئی اورکابینہ نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ

عدالت کوآگاہ کردوں کہ بھٹو کے جوڈیشنل مردڑ اورعدل کے ایوانوں میں انصاف کی جو دھجیاں اڑائی گئی ہیں اورجس پر صدارتی ریفرنس 12 سال سے پڑی ہے، کابینہ نے وزارت قانون سے کہاہے کہ وہ عدالت کو چٹھی لکھیں کہ اس پرکارروائی شروع کی جائے۔وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا ،یوسف رضا گیلانی کو غیر قانونی سزا دی گئی ،نواز شریف کو بھی سزا دی گئی ،عدلیہ کی بحالی کیلئے نکلے تو ہمارا کوئی ماما چاچا نہیں تھا ۔

انہوںنے کہاکہ جب نواز شریف نکل رہے تھے تو باہر سے کالز آئیں کہ آپ کو خطرہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم سمجھتے تھے جنرل مشرف نے زیادتی کی اور باہر نکل آئے ،آج جب نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے آتے ہیں تو شرم آتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جاوید ہاشمی کی بات آج سب ثابت ہوگئی۔ انہوںنے کہاکہ ججز کو ہماری شکلیں پسند نہیں تھیں ،ایجنسیز کو ہم پسند نہیں تھے ۔ انہوںنے کہاکہ اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہ شیطانی اتحاد تھا ۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے کھلواڑ کیا لیکن کسی نے نہیں پوچھا ،

پنجاب کے 25 ارکان کو ڈس کوالیفائی کیا ،یہ کس طرح کا انصاف ہے کہ ریویو کو نہیں سنا ،یہ کوئی اندھوں گونگوں بہروں کا ملک تو نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پہلے عدالتوں ایجنسیز اور نیب کے ذریعے انجینئرنگ کی ،اس پر ہم چھپ نہیں رہینگے اور بولیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم کو کہا گیا کہ حکومت کا مطلب صرف وزیر اعظم نہیں ،کیا سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مقبول باقر نے میرا کیس سنا اور مجھے ضمانت ملی ،اس کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی ،

نجی محفلوں میں معافی مانگی جاتی ہے ،میں نے کہا کہ یہ نجی معاملہ نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اب کہہ رہے ہیں پنجاب میں الیکشنز کرائیں ،پنجاب میں الیکشن کی بڑی جلدی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر پنجاب میں الیکشن پہلے ہوتا ہے تو باقی صوبوں کے الیکشن پر اثرانداز ہوا جاسکے گا ۔ انہوںنے کہاکہ پرانی مردم شماری پہ الیکشن کیلئے بضد ہیں ،کیا گارنٹی ہے کہ ان الیکشن کے نتائج کو سب مانیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم ذاتی خواہشات کو ذاتی مفادات پر کیوں غالب کردہتے ہیں ۔ ا

نہوںنے کہاکہ ہمیں کہا گیا کہ ججز کی عمر بڑھائی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے فل کورٹ بلایا جائے ،معاملہ 25 ارکان کی ڈس کوالیفکیشن سے شروع کریں ،عدالت عظمی کا وقار بحال اور برقرار رہنی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں، بڑی عدالت چھوٹی عدالت کے ڈومین میں مداخلت نہ کرے ،اب بھی وقت ہے انتشار خلفشار اور تصادم سے بچایا جائے

،ہم الیکشن چاہتے ہیں تاہم آزاد اور شفاف انتخابات ہوں ،ہم نفرتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس ہماری استدعا کو نوٹس لیں اور فل کورٹ بنائیں۔وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہاکہ آج چار اپریل کو پھر عدالتی قتل ہوا ہے ،ذوالفقار علی بھٹو قتل کے صدارتی ریفرنس پر کارروائی کی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ اس ملک کو کون چلا رہا ہے سوال تو اٹھتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم تصادم نہیں چاہتے اس عدالت کو یہ نظر نہیں آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہوئی ہے ،عدالتوں میں سیاست آگئی ہے ،

یہ تو لاڈلے کا تحفظ کررہے ہیں ،جو خون ہوا وہ پارلیمان کا ہوا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کیا گیا تو پورے ملک میں اندھیرا تھا ،ہم نے دل پر پتھر رکھ کر کہا پاکستان کھپے ۔انہوںنے کہاکہ جو پاکستان میں آج ہو رہا ہے ے یہ طاقت کا کھیل ہے ،پاکستان پر اقلیت کا فیصلہ مسلط کیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ زور وجبر کے فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے ،آج کون سی پنجاب میں نوے دن کے الیکشن کی تاریخ دی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ نے الیکشن آگے کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت پاکستان میں طاقت کا ناجائز استعمال ہورہا ہے ،

اپنی عزت اپنے ہاتھ میں رکھیں ،فل کورٹ بنانے میں کیا قباحت تھی کون سا آسمان ٹوٹ جاتا ۔ انہوںنے کہاکہ یہ آئینی بحران ہم نے پیدا نہیں کیا آپ نے پیدا کیا ہے۔وزیرمواصلات مولانا اسعد محمود نے کہاکہ عدالت نے جس تقسیم کی بنیاد رکھ دی خدا نہ کرے ہمیں یہ بہا لے کر نہ جائے ،ہم سیاسی جماعتوں نہ ہی پارلیمان کا لحاظ کیا گیا ،ہم اپنے حق فیصلہ نہیں چاہتے ،ہم نے غیر متنازع بنچ کا مطالبہ کیا تاہم ان کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی ۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمان کی قرارداد کا لحاظ نہیں رکھا گیا ،سپریم کورٹ نے اس بات کو ترجیح دی کہ

عاشقان عمران خان میں نام لکھوا دے ،سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ قطعی قبول نہیں۔ انہوںنے کہاکہ جوڈیشل مارشل لاء کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں ،اس جوڈیشل مارشل لاء کو قبول نہیں کرسکتے ،آپ اگر عدالت کے اندر اتفاق پیدا نہیں کرسکتے تو اپنے گریبان میں دیکھنا ہوگا ،آپ نے بے انصافی کی، عدل کا جنازہ نکالا، آپ کے روح کو سکون نہیں ملے گا ۔

انہوںنے کہاکہ آپ نے آئین اور جمہور کا جنازہ نکالا ہے ،خدا کی قسم آئین بھی برقرار رکھیں گے ،خدا کی قسم جمہوریت بھی برقرار رکھیں گے ،اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرنے دینگے ،ہم لڑتے رہینگے اور آخری دم تک لڑتے رہینگے۔ انہوںنے کہاکہ ہم وزیر اعظم کو تنہا چھوڑیں گے نہ آئین کو اکیلا چھوڑیں گے ،ہم پارلیمان کو بھی کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے ۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے کبھی جج کے عیب پر پردہ ڈالا کبھی جرنیل کے عیب کو چھپایا مگر افسوس سیاستدانوں کو ناکردہ گناہوں میں بھی نامزد کردیا جاتا ہے ،ملک میں سیاسی، مذہبی، قوم پرستوں، اقلیتوں کے حقوق کی تحاریک چلیں کیا کبھی کوئی ازخود لیا گیا؟،ہم کبھی اس صورت حال میں نہ آئین، نہ وزیراعظم نہ پارلیمان کو تنہا چھوڑیں گے۔اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت والے دن آئین کاجنازہ نکالا گیا ، ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس پر فیصلہ کیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ یہ معاملہ کابینہ نہیں قومی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر عدالت کے سامنے رکھا جائے ،جس طرح لاڈلے کیلئے دن رات عدالتیں کھلتی اور فیصلے ہوتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سیاہ فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام کی بات نہیں سنی گئی ،لالڈلے کو نوازا گیا جس نے چار سال تک ملک کو تباہ کیا نور عالم خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں سارے مسلمان ممالک کو اکٹھا کیا ،اس کی سزا ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی ،چار اپریل کو ہر دل عزیز لیڈر کو پھانسی لگا دی گئی ، ہم سب کے ساتھ ظلم کیا گیا ،آج شہید ذوالفقار علی بھٹو پر بات ہونی چاہیے ،انہوں نے صدارتی نظام کو ختم کرکے جمہوریت رائج کی۔پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو ہمارے محسن تھے ،ہم اس شخص کے بنائے ہوئے

آئین کے نتیجے میں اس ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں ، اس ملک پر وہ چیزیں آج بھی بھگت رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ لاہور میں او آئی سی کانفرنس کی بہت تکلیف تھی کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ آج ہزاروں لوگ انصاف کا دروازے کھٹکھٹا رہے تھے ،یہ عدالتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا پردہ چاک کریں ،آج ہم وہیں کھڑا ہے جہاں ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا آگے نہیں بڑھ سکے ،

ہم توہین عدالت کے خوف سے بات نہیں کرتے۔ احمد حسین ڈیہڑ نے کہاکہ چار اپریل مظلوم کا دن ہے ذوالفقار علی بھٹو پر ظلم کیا گیا ،آج بھی فیصلہ آیا ہے ہم عدالتی فیصلوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ،موجودہ حالات میں ہم الیکشن کے متحمل نہیں ہوسکتے ،آج چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے ،پی ڈی ایم اور عمران خان بیٹھ کر میثاق معیشت کریں ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے خالق سزائے موت دی گئی ،

انہوںنے کہاکہ آئین کی تشریح کرنے والے بھٹو کو سزائے موت دیتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے ملک کو سی پیک دیا ،ایسا بھی حکمران تھا جس نے سی پیک کو ختم کیا ،آج کا سب سے بڑا مسئلہ غریب بھوک سے مر رہا ہے ،دس سال کیلئے چارٹر آف اکانومی بنایا جائے ،غریب کو آٹا چینی پر دوہزار اٹھارہ والے ریٹ دئیے جائیں۔شیخ روحیل اصغر نے کہاکہ شیطان کو اگر شیطان نہ کہا جائے تو شیطان کے ساتھی ہونے کے مترادف ہے ۔

انہوںنے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے بہت بڑی زندگی گزاری ،ذوالفقار علی بھٹو عوام کے حقوق کیلئے کھڑا ہوا ،اس نے ٹرین کا سفر کیا تو اس ملک کے عوام س کیساتھ چلنا شروع ہوگئے ،کیا ہم بانی پاکستان کے کہے ہوئے الفاظ پر چلے ،جو راستہ انہوں نے دکھایا کیااس پر ہم چلے ۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے اس ادارے کوکمزور سے کمزور کردیا گیا

اس ادارے کو کمزور کرنے میں ہم سب شامل ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کا خاندان ختم ہوگیا لیکن اس نے غلامی قبول نہیں کی ۔ انہوںنے کہاکہ ضیاء الحق کے بیٹے نے گلے میں پٹا ڈال لیا ،ضیاء کا بیٹا اسمبلی نواز شریف کی مرہون منت تھی ،ذوالفقار علی بھٹو کا سزا دینے میں سیاستدانوں اور ان کے اپنوں نے اچھا نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ کیا آج ہم اس کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں جس کی اولاد آج بھی یہودیوں کا کھا رہی ہے ،عمران خان نے اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور معاشرے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

نوابزادہ افتخار احمد خان نے کہاکہ آج بھی لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ،ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو یکجا کیا اور تہتر کا متفقہ آئین دیا ،آج اس آئین نے اس ملک کو ایک لڑی میں پرویا ،ان کا کارنامہ تھا کہ ختم نبوت کا درینہ مسئلہ حل کیا ،ذوالفقار علی بھٹو کا مسلمانوں کیلئے یہ بہت بڑا کارنامہ تھا۔ رامیش کمار نے کہاکہ پارلیمنٹ کو ہم مضبوط نہیں کریں گے تو معاملہ عدالت میں تو جائیگا ،میرا مشورہ ہے ہمیں قانون پر عمل کرنا چاہیے ،آج ملک کے جو حالات ہیں

وہ دن بدن پیچھے جارہے ہیں ،اس وقت ملک استحکام چاہتا ہے ،آج اس نعرے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کھپے۔شاہدہ اختر علی نے کہاکہ شہادت بھی ایک بلند فرجہ ہے جو کسی کسی کو ملتا ہے ،ذوالفقار علی بھٹو کا مشن زندہ رہے گا ،انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت دی اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا ،ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا ،قادیانیوں کو اقلیت قرار دے کر بڑا کارنامہ سر انجام دیا ،

اس ملک وقوم کی خطر ہمیں سب کو اکھٹے ہونا ہوگا ،ذوالفقار علی بھٹو نے آمریت کے سامنے سرنہیں جھکایا۔پی ٹی آئی کے رکن محسن لغاری نے کہاکہ اس ایوان کی عزت کو ہم خود کم کر رہے ہیں،ایوان میں ذاتی حملے کیے جارہے ہیں جو آدمی زبان کھولتا ہے اس کی تربیت کا پتا چلتا ہے ، جس قسم کی زبان یہاں دیکھ رہا ہوں بڑا افسوس ہوتا ہے،ایوان کو مچھلی منڈی بنانے کی بجائے معزز بنائیں۔

انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،الیکشن 90 دن میں ہونا ہے حکومت کی طرف سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا ہے ،آئین اور قانون ہوتے ہیں اس لیے ہے کہ اس پر عمل ہو۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج)بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…