پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

ڈین جونز کو پاکستان میں سکیورٹی انتظامات بوجھ لگنے لگے،سیکورٹی خدشات کی وجہ سے انکارکرنیوالے پھر کیسے راضی ہوئے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)ڈین جونز کو پاکستان میں سکیورٹی انتظامات بوجھ نظر آنے لگے، سابق آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا ہے کہ بم پروف بسیں اور آرمی کا حفاظتی حصار چکرا کر رکھ دیتا ہے۔ایک آسٹریلوی اخبار کیلئے کالم میں ڈین جونز نے پی ایس ایل میچز کے دوران پاکستان میں سکیورٹی انتظامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ڈین جونز نے کہا کہ کرکٹرز کو انٹرنیشنل پروازوں سے اترتے ہی بلٹ اور بم پروف بسوں میں ڈال کر حفاظتی حصار میں لے جایا جاتا ہے، یہ صورتحال ذہن کو چکرا کر رکھ دینے والی ہوتی ہے،کھلاڑی کمروں تک اس طرح محدود ہوتے ہیں جیسے کسی جیل میں ہوں،سکیورٹی والے آپ کو کہیں باہر نہیں جانے دیتے۔انہوں نے کہا کہ میں پی ایس ایل کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے جانتا ہوں کہ پابندیوں کی وجہ سے پلیئرز کے پاس کرنے کیلئے کچھ نہیں اور سوچنے کیلئے بہت وقت ہوتا ہے،وہ ذاتی معاملات پر زیادہ غور کرتے ہیں، یوں ان کا ذہن انہی کا دشمن بن جاتا ہے،وہ فارغ رہ کر سوچتے ہیں کہ کوئی ان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔انھوں نے دعوی کیا کہ گذشتہ پی ایس ایل میں کئی کرکٹرز کو پاکستان میں میچ کھیلنے کے لیے اضافی رقم دی گئی،اس فیصلے پر میں نے سخت برہمی کا اظہار کیا، میرا کہنا تھا کہ کیا ان کھلاڑیوں کی زندگیاں ہم سے زیادہ قیمتی ہیں، حیرت کی بات ہے کہ کئی کرکٹرز سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان جانے سے انکاری تھے لیکن اضافی معاوضہ ملنے پر کھیلنے کو تیار ہوگئے،اس سوچ پر میں تذبذب کا شکار ہوں، کیا پیسہ سکیورٹی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…