جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کہتے تھے 500 ارب روپے فارن اکاؤنٹس میں ہے آج پوچھتا ہوں کہ وہ 500 ارب کہاں ہے؟سلیمان شہباز

datetime 8  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پولیٹیکل پارٹی کو سلیکٹ کرکے ملک کے اوپر مسلط کیا گیا۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز ملک واپسی نے اپنی وطن واپسی کے حوالے سے کہا کہ میں 4 سال کے بعد پاکستان آرہا ہوں۔

2018 میں ایسے حالات میں ملک چھوڑنا پڑا جب اصل سازش کا پاکستان میں آغاز ہوا، ہماری فیملی کے بزرگوں، بچوں اور خواتین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جھوٹے کیسز بنائے گئے، میڈیا ٹرائل کروایا گیاتاہم وقت گزر جاتا ہے۔سلیمان شہباز نے کہاکہ میں نے اور میری فیملی نے انتہائی تکلیف دہ وقت گزارا، کس طرح چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا، چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیاکہ شریف فیملی اور ن لیگ کوانتقام کا نشانہ بنایا جائے، سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن نے بتایا سلیکٹڈ وزیراعظم نے انہیں وزیراعظم ہاؤس بلایا اور بشیرممین کو کہا گیا کہ آپ شریف فیملی اور ن لیگ کے لوگوں کوکیوں گرفتارنہیں کرتے۔سلیمان شہباز نے کہاکہ کس طرح شہزاد اکبرنے جنگل کا قانون بنایا ہوا تھا،کس طرح شہزاد اکبر نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، ان 6 سال میں عمران خان کو ہرطرح کی سپورٹ رہی، عمران خان کو اداروں کی سپورٹ رہی، پوری سیاسی طاقت ان کے پاس تھی، ایک روپے کی کرپشن، کک بیک، کرمنل پروسیڈز میں کہیں پروہ ثابت نہ کرسکے۔شہباز شریف کے بیٹے نے کہا کہ عمران خان کہتے نہیں تھکتے تھے کہ 500 ارب روپے انہوں نے فارن اکاؤنٹس میں رکھا ہوا ہے۔

میں عمران خان سے پوچھتا ہوں کہ وہ 500 ارب کہاں ہے؟ انہوں نے صرف پاکستان نہیں، انگلینڈ کی عدالتوں میں ہمارے خلاف کیس کیے، این سی اے کا مشہور زمانہ کیس سب کے سامنے ہے، اس میں کیا نکلا؟ این سی اے نے تو آج سے 2 سال پہلے ان سارے مقدمات کوکوڑے دان میں پھینک دیا، یہ ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں کرسکے۔وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ ان 6 سالوں میں پاکستان کے سوشل اور پولیٹیکل فیبرک کو بہت نقصان پہنچا۔

ملک آگے لیجانا ہے تو سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر مقدمات اور سیاسی انتقام کانشانہ نہیں بناناچاہیے، ایک دوسرے کا احترام اور عزت سیکھنی چاہیے، سیاست سیاسی میدان میں کی جائے، خواتین تک جانا، اپنی روایات اور کلچر کو کچلنا کوئی سیاست نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…