طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسرنے افغانستان پہنچ کر بڑا اعلان کردیا

  ہفتہ‬‮ 13 اگست‬‮ 2022  |  17:56

کابل (آن لائن) طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حکومت کے قیام کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں کابل پہنچ گئے اور طالبان حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس کو 2016 میں امریکی ساتھی سمیت یونیورسٹی کے قریب سے طالبان نے اغوا کرلیا تھا اور تین سال تک یرغمال بنائے رکھا۔اپنے تین رہنماو ں کی رہائی کے بدلے طالبان نے دونوں پروفیسرز کو رہا کردیا تاہم اس وقت ٹموتھی ویکس اسلام قبول کرچکے تھے اور خود کو جبرائیل عمر کہلانا پسند کرتے تھے۔ رہائی کے بعد وہ کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت کرتے آئے ہیں۔قطر میں ہونے والے امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے دوران بھی ٹموتھی ویکس نے طالبان رہنماو ں سے ملاقات کی تھی اور جب طالبان 15 اگست 2021 کو افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آسٹریلوی پروفیسر نے مبارک باد بھی دی تھی۔طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے جبرائیل عمر جب کابل ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے چہرے پر سفید داڑھی سجی تھی، وہ سفید قمیص شلوار زیب تن کیے ہوئے تھے اور قندھاری پگڑی باندھی ہوئی تھی۔صحافیوں سے گفتگو میں پروفیسر جبرائیل عمر نے بتایا کہ اپنے سفر کا دوسرا حصہ مکمل کرنے اور اس سرزمین پر طالبان حکومت کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی منانے افغانستان آیا ہوں۔رواں برس کے آغاز پر آسٹریلوی پروفیسر نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ آسٹریلیا میں مقیم سابق افغان پارلیمنٹیرین سونا بارکزئی کے ساتھ مل کر افغان عوام کی بہبود کے لیے ایک رفاحی ادارہ قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎