پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسرنے افغانستان پہنچ کر بڑا اعلان کردیا

datetime 13  اگست‬‮  2022 |

کابل (آن لائن) طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حکومت کے قیام کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں کابل پہنچ گئے اور طالبان حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس کو 2016 میں امریکی ساتھی سمیت یونیورسٹی کے قریب سے طالبان نے اغوا کرلیا تھا اور تین سال تک یرغمال بنائے رکھا۔اپنے تین رہنماو ں کی رہائی کے بدلے طالبان نے دونوں پروفیسرز کو رہا کردیا تاہم اس وقت ٹموتھی ویکس اسلام قبول کرچکے تھے اور خود کو جبرائیل عمر کہلانا پسند کرتے تھے۔ رہائی کے بعد وہ کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت کرتے آئے ہیں۔قطر میں ہونے والے امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے دوران بھی ٹموتھی ویکس نے طالبان رہنماو ں سے ملاقات کی تھی اور جب طالبان 15 اگست 2021 کو افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آسٹریلوی پروفیسر نے مبارک باد بھی دی تھی۔طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے جبرائیل عمر جب کابل ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے چہرے پر سفید داڑھی سجی تھی، وہ سفید قمیص شلوار زیب تن کیے ہوئے تھے اور قندھاری پگڑی باندھی ہوئی تھی۔صحافیوں سے گفتگو میں پروفیسر جبرائیل عمر نے بتایا کہ اپنے سفر کا دوسرا حصہ مکمل کرنے اور اس سرزمین پر طالبان حکومت کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی منانے افغانستان آیا ہوں۔رواں برس کے آغاز پر آسٹریلوی پروفیسر نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ آسٹریلیا میں مقیم سابق افغان پارلیمنٹیرین سونا بارکزئی کے ساتھ مل کر افغان عوام کی بہبود کے لیے ایک رفاحی ادارہ قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…