جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

10 لاکھ افراد کو سستا پیٹرول اسکیم پر رجسٹر کر لیا گیا

datetime 28  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کیلئے مشترکہ معاشی اور مالیاتی اہداف موصول ہوگئے۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح حکومت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ساتویں اور آٹھویں جائزے کیلئے

ایم ای ایف پی (میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی) موصول ہوا ہے۔واضح رہے کہ وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی تھی کہ اب عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے میمورنڈم فار اکنامک اینڈ فنانشنل پالیسیز (MEFP) پیر تک موصول ہوجائے گی۔اس سے قبل، حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس میں ایک لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ لینے والوں پر ٹیکس دوبارہ متعارف کرایا گیا ہے جبکہ جولائی سے پیٹرولیم پر مرحلہ وار 50 روپے فی لیٹرلیوی لگانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔دریں اثناء منعقدہ ٹرن ارائونڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایم ای ایف پی ملا ہے، جس کے مطابق آئی ایم ایف نے ساتویں اور آٹھویں قسط کو ملا دیا ہے، ساتویں قسط 900 ملین ڈالر اور آٹھویں قسط تقریباً 1 ارب ڈالر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ افراد کو سستا پیٹرول اسکیم پر رجسٹر کر چکے ہیں، پاکستان پانچویں خسارے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑے، ٹیکس نہیں جمع کر سکتے تو خود داری کی بات نہ کریں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب ہم آئے تو پاکستان کو 4 ریکارڈ بجٹ خساروں کا سامنا تھا، پونے 4 برسوں میں 20 ہزار ارب روپے قرض لیا گیا، ہمیں 4 ہزار ارب روپے ڈیٹ سروسنگ کرنی پڑ رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ پیٹرول اور ڈیزل پر 120 ارب روپے کی سبسڈی ملک کو دیوالیہ کر دیتی ہے، قوم پر فخر ہے کہ اس نے سمجھا کہ ملک دیوالیہ پن کی نہج پر تھا

، اس لیے پیٹرول مہنگا کرنا پڑا۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ میں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیٹوں کی فیکٹریوں پر اور اپنی فیکٹریوں پر ٹیکس لگایا ہے،

اس حوالے سے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ یاد رکھو ہمارا مقصد خود کفالت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈائریکٹ ٹیکسز لگائے ہیں، سپر ٹیکس لگایا ہے،

یہ سپر ٹیکس اس پر لگایا ہے جس کی آمدن زیادہ ہے، ہم پورے پاکستان کے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، ہم نے امیروں پر ٹیکس لگایا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے سرمایہ داروں کو حصہ ڈالنا ہو گا، ہمیں ٹیکس وصولی کے معاملات کو درست کرنا ہے، حالات اب بھی مشکل ہیں، لیکن ہم بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…