میرے وکیل ٹریفک میں پھنسے رہے مجھے اکیلا دیکھ کر فرد جرم عائد کی گئی ،جس صحافی نے خبر پبلش کی اسکو معاف کردیا گیا، رانا شمیم پھٹ پڑے

  جمعرات‬‮ 20 جنوری‬‮ 2022  |  14:15

اسلام آباد(آن لائن) گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے کہا ہے کہ میرے وکیل ٹریفک میں پھنسے رہے مجھے اکیلا دیکھ کر فرد جرم عائد کی گئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جج نے کہا کہ میرے وکیل ٹریفک میں پھنسے رہے اور مجھے اکیلا دیکھ کر فرد جرم عائد کی گئی جس صحافی نے خبر پبلش کی اسکو معاف کردیا گیا۔انصار عباسی نے خبر پبلش سے قبل میرے سے پوچھا تھا میں نے جواب دیا کہ جب تک بیان حلفی سامنے نا ہو میں کچھ نہیں کہہ سکتاجب ثاقب نثار کائونٹر ایفیڈیویٹ لائیں گے


تب بات ہوگی فرد جرم عائد ہونے سے کیا ہوتا ہے بیان حلفی سربمہر تھا معلوم نہیں کیسے پبلک ہوافرد جرم سے مراد کسی کو سزا دینا مقصود نہیں ہوتا۔اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم پر توہین عدالت لگا دی جبکہ جنگ گروپ پر توہین عدالت موخر کر دی گئی رانا شمیم نے توہین عدالت کے کچھ مندرجات کو قبول کیا اور کچھ کو ماننے سے انکار کر دیا عدالت کے سامنے رانا شمیم، میر شکیل الرحمن، انصار عباسی اور دیگر پیش ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بیانیہ بنا دیا گیا ہے اور فوکس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بنا دیا گیا ہے یہ عدالت سرعام احتساب پر یقین رکھتی ہے اگر احتساب نہیں ہو گا تو بہتری نہیں ہو سکے گی جولائی 2018 سے آج تک کونسا ایسا آرڈر ہوا ہے جس پر یہ بیانیہ فِٹہوتا ہے اس خبر کا ثاقب نثار یا کسی اور سے کوئی تعلق نہیں صرف اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہے کیا یہ عدالت خاموشی سے بیٹھ کر خود پر اعتماد ختم ہونے کا انتظار کرے اس موقع پر افضل بٹ نے عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت ہمیں موقع دے تو ہم کچھ ایسا طریقہ کار بنا لیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اخبار کو بہت موقع دیالیکن انکو کوئی پچھتاوا نہیں ہے ۔یہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی سائل اسکی بے توقیری کریاس عدالت کی بہت بے توقیری ہو چکی ہے کیا اس عدالت کے ساتھ کسی کو کوئی مسئلہ ہیاس عدالت کو ہی فوکس کر کے بیانیہ بنایا جا رہا ہیاس عدالت کا احترام کرتے ہوئے کیس کی کارروائی آگے چلانے دیں یہ کس طرح کا بیانیہ ہے کہ اس عدالت ججزکمپرومائزڈ ہیں اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ آج پہلی بار میڈیا کی جانب سے اظہار ندامت سامنے آیا ہے ۔رانا صاحب اپنے بیان حلفی مان رہے ہیں انکو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جانا چاہیے ۔اگر رانا صاحب کسی اور کو پراسیکیوٹر چاہتے ہیں تو کر دیں اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لوگ استعمال بھی ہو جاتے ہیں لیکنمیڈیا کو اس سے سیکھنے کا موقع ملے گا اس موقع پر عدالت نے کہا کہ اگر کوئی بتا دے کہ 2018 سے اس عدالت میں یہ غلطی تھی ہم مان لیتے ہیں میڈیا کا کردار ثانوی ہے انکا کردار بنیادی نہیں ہے ہمارا قصور ہے ہم نے Subjudice rule کی پرواہ نہیں کی اتنا بڑا اخبار کہہ رہا ہے ہم نے لیگل رائے نہیں لی اسکے نتائج کو نہیں سوچایہ نہیں سوچا گیا کہدو دن بعد کیس پر اسکے کیا اثرات ہونگے اگر انکی رائے میں تبدیلی نہیں آئی تو پھر عدالت کو کارروائی آگے بڑھانے دی جائے اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدر ناصر زیدی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی رپورٹنگ سے متعلق ہم کچھ چیزوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں منظور کرتے ہیں ہم نے ملٹری کورٹس کا سامنا کیا انکا مقابلہ کیا اس موقع پر عدالت نےناصر زیدی سے مکالمہ کیا کہ آپ نے کوڑے کھائے ہیں، کوڑا زیادہ زور سے لگتا ہے جس پر ناصر زیدی نے عدالت کو بتایا کہ ایڈیٹوریل یا رپورٹر سے بھی غلطی ہو سکتی ہے لیکن توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے عدالت توہین عدالت کی کارروائی کرے گی تو پوری دنیا میں اچھا میسج نہیں جائے گا پاکستان میں آزادی اظہار کا گلہ پہلے ہی دبایا جا رہا ہے،توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو بہت مشکل ہو جائے گی جس پر عدالت نے کہا کہ مجھے یقین ہے آزاد اظہار رائے نہیں ہو گا تو عدلیہ کا احتساب بھی نہیں ہو سکے گاماضی میں لوگ لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں ہمارا قصور ہے کہ ہم نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیایہ تاثر دیا گیا کہ صرف یہی ایک عدالت ہے جو کمپرومائز ہو سکتی ہے اس موقع پراٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ میری مودبانہ درخواست ہو گی کہ رانا شمیم پر چارج فریم اور باقیوں کی حد تک چارج موخر کیا جائے عدالت نے ایک بار پھر ناصر زیدی سے مکالمہ کیا کہ زیدی صاحب نے نہیں بتایا کہ کوڑا لگتا کیسے ہے؟اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنے والد سے پوچھ کر بتاؤں گامیری تو والدہ نے بھی جیل کاٹی تھی اس موقع پرعدالتی معاون فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صحافتی لیڈران نے جو ندامت کا اظہار کیا ملزمان کو بھی کرنا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صحافیوں پر فرد جرم نہ ہو اور رانا شمیم کے خلاف ہو جائے یا تو سب پر فرد جرم موخر کر دی جائے یا پھر سب پر جارچ فریم کیا جائے اس کیس کی جس طرحمیڈیا رپورٹنگ ہو رہی ہے وہ بھی subjudice رول کے خلاف ہے ۔عدالت نے کہا کہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو اس کے نتائج خطرناک ہیں یہاں معاملہ مختلف ہے اس موقع پر عدالتی معاون نے عدالت کو بتایا کہ جس اخبارکی پروسیڈنگز چل رہی تھیں اسی اخبار نے عالمی تنظیموں کے بیانات بھی چھاپے کہا گیا ہے کہ بیان حلفی کی انکوائریکروا لی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اوپن عدالت کی یہ کارروائی انکوائری سے زیادہ موثر ہے جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ میں انکوائری کی اس استدعا کی مخالفت کرتا ہوں ۔جس پر عدالت نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے کونسی دو درخواستیں دائر کی ہیں جس پر رانا شمیم نے اپنی درخواست عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائی اس موقع پررانا شمیم کے بیٹے نے عدالت سے کہا کہ میں درخواست پڑھ کر سنا دیتا ہوں عدالت نے کہا نہیں انکو پڑھنے دیں ماشاء للہ چیف جج رہے ہیں رانا شمیم نے کہا کہ میری طبیعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے جس پر عدالت نے کہا کہ ہاں ہاں، آرام سے پڑھیں اس موقع پر رانا شمیم نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھ پر آج فرد جرم عائد نہ کی جائے میں اس عدالت کے سامنےپیش ہوتا رہا ہوں اور اس ہائیکورٹ پر مکمل اعتماد ہے عدالت نے رانا شمیم کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کر دی اس موقع پر عدالت نے رانا شمیم سے پوچھا کہ کیا آپ نے چارج سنا اور اسکو قبول کرتے ہیں جس پر رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ کچھ چیزیں ماننے والی ہیں اور کچھ نہیں ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ آپ پر فرد جرم عائد کر دیا گیاہے کاپی آپکو دے دی جائے گی جس پر رانا شمیم نے عدالت سے پوچھا کہ کیا صرف میرے خلاف چارج فریم ہوا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ ابھی باقی دیکھتے ہیں آپ تحریری جواب دیں اور اپنا بیان حلفی جمع کرائیں جس پر رانا شمیم نے کہا کہ کورٹ نے سوچ لیا ہے تو مجھے پھر آج ہی سزا سنا دیں میرے ساتھ اس طرح زیادتی نہیں ہونی چاہئے میں ہرہفتے کراچی سے آتا ہوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپکو آنا پڑیگا آپ پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے ۔جس پر رانا شمیم نے کہا کہ میرا سارا کام پھنسا ہوا ہے میں بہت ڈسٹرب ہوں عدالت نے کہا کہ آپ نے کہا چیف جسٹس ثاقب نثار چھٹیوں پر گلگت بلتستان آئے آپ کے مطابق انہوں نے ہدایات دیں کہ نواز شریف اور مریم نواز الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا رانا شمیم نے اٹارنی جنرل کو بطور پراسیکیوٹر تبدیلی کی بھی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیاعدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎