حقیقی باپ نے سولہ سالہ بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنا دیا

  اتوار‬‮ 18 جولائی‬‮ 2021  |  10:44

پتوکی (این این آئی ) پتوکی ناروکی ٹھٹھہ میں حقیقی باپ نے اپنی سولہ سالہ بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنا دیا پولیس نے ملزم کو پکڑ کر حوالات میں بند کرکے مقدمہ درج کرلیا واقع کی اطلاع ملتے ہی اے ایس پی قصور میڈم کائنات تھانہ سٹی پتوکی پہنچ گئی واقع کی تحقیقات شروع کردی ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں زنا کاری، بد فعلی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہونے کو مل رہا

ہے مگر ملزمان کو سزائیں نہ ہونے پر بڑی حد تک اضافہ ہو رہا ہے زیادہ تر ملزمان کے وارثان سیاسی اثر و سوخ کا استمال کرکے مدعیان کو چند پیسوں کا لالچ دیکر صلح کرلیتے ہیں لیکن ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت پاکستان اپنا کردار ادا کرے اور ملزمان کو کڑی سزا دلوانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے پرانی منڈی پتوکی ناروکی کے رہائشی شہباز نے تھانہ سٹی پتوکی پولیس کو تحریری درخواست گزاری جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ میرے چھوٹے بھائی شہزاد نے اپنی حقیقی بیٹی پندرہ سولہ سالہ عروج کے ساتھ زبردستی زنا کیا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اس کڑی سزا دلوائی جائے اس واقع کی اطلاع ملتے اے ایس پی قصور میڈم کائنات پتوکی سٹی تھانہ پہنچیں جنہوں نے بچی کے ملزم باپ سے پوچھ گچھ کی اس کے بعد اے ایس پی قصور کائنات سرکاری ہسپتال پہنچیں جہاں پر انہوں نے متاثرہ بچی سے ملاقات کی اور پوچھ گچھ کی اس حوالے سے جنرل سیکرٹری پریس کلب رجسٹرڈ پتوکی نوید بھٹی نے اے ایس پی قصور میڈم کائنات سے ملاقات کی اے ایس پی کائنات نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقع کی تحقیقات شروع کردی ہیں جلد ہی حقائق عوام کے سامنے لائیں جائیں گے اور ملزم کو کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے گی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎