اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

رینسم ویئر کے خلاف عالمی کریک ڈائون،سات ہیکرز گرفتار

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی )عالمی سائبر کرائم کریک ڈان کے تحت گزشتہ فروری سے اب تک رینسم ویئر حملوں سے منسلک 7 مشتبہ ہیکرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی عہدیدار کے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایف بی آئی اور جسٹس ڈپارٹمنٹ رینسم ویئر(سسٹم ہیک کرنے کے بعد اسے کھولنے کے لیے تاوان طلب کرنا)سے

منسلک الزامات میں 60 کروڑ ڈالر ضبط کرنے کا اعلان کریں گے۔گرفتار کیے گئے ہیکرز میں سے کسی کا بھی نام سے شناخت نہیں کی گئی تاہم یوروپول نے کہا کہ دو مشتبہ ہیکرز جن کا تعلق رینسم ویئر گینگ آر ایول سے ہے، کو گزشتہ ہفتے حملوں میں 5 لاکھ 80 ہزار روپے کی تاوان وصول کرنے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔کویت میں حکام نے گزشتہ ہفتے ایک اور ہیکر کو گرفتار کیا تھا اور جنوبی کوریا کے حکام نے گزشتہ فروری سے اب تک تین ہیکرز کو گرفتار کیا ہے جبکہ ساتویں کو گزشتہ ماہ یورپ میں گرفتار کیا گیا تھا۔یہ گرفتاریاں گولڈ ڈسٹ نامی قانون نافذ کرنے والی تحقیقات کا حصہ تھیں جس میں امریکا اور 16 دیگر ممالک شامل تھے۔آر ایول جسے سوڈینوکیبی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے حالیہ مہینوں میں دنیا کے سب سے بڑے میٹ پروسیسر جے بی ایس ایس اے کو نشانہ بنایا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر جولائی میں ہونے والے حملے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے جس نے فلوریڈا کی ایک سافٹ ویئر کمپنی کیسیا کا ڈیٹا چوری کرتے ہوئے دنیا بھر کے کاروبار کو نقصان پہنچایا تھا۔جسٹس ڈپارٹمنٹ نے پیر کو ڈیلاس کی وفاقی عدالت میں یاروسلاو واسنسکی نامی مشتبہ یوکرینی ہیکر کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد کیے تھے جس پر کاروبار اور مالیاتی اداروں سمیت ملک بھر میں مختلف اہداف کو سوڈینوکیبی رینسم ویئر سسٹم میں ڈالنے میں مدد کرنے کا الزام تھا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل لیزا موناکو نے ایک انٹرویو میں اعلان کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں آپ کو مزید گرفتاریاں دیکھنے کو ملیں گی اور کے ساتھ ساتھ رینسم ویئر کی کارروائیاں بھی رک جائیں گی۔جسٹس ڈپارٹمنٹ نے رینسم ویئر کی لہر سے نمٹنے کے لیے متعدد طریقے آزمائے ہیں جسے وہ قومی سلامتی اور اقتصادی خطرہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔غیر ملکی ہیکرز کی گرفتاریاں جسٹس ڈپارٹمنٹ کے لیے اہم ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے ایسے ممالک کی پناہ میں کام کرتے ہیں جو اپنے شہریوں کو قانونی چارہ جوئی کے لیے امریکا کے حوالے نہیں کرتے۔جسٹس ڈپارٹمنٹ نے جون میں رینسم ویئر حملے کے بعد کالونیل پائپ لائن کی طرف سے ادا کی گئی 23 لاکھ کرپٹو کرنسی ضبط کی تھی جس کی وجہ سے کمپنی کو عارضی طور پر کام روکنا پڑا تھا جس سے ملک کے چند حصوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…