پی ٹی آئی نے اسد عمر کے نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹر ویو کے نکات کو مسترد کر دیا

21  جون‬‮  2023

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے اسد عمر کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ انہوں نے چیئرمین عمران خان کی تصادم پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے پارٹی کا عہدہ چھوڑا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن کی جانب سے بیان پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر کے ایک نجی نیوز چینل کو انٹر ویو کے بعد سامنے آیا ہے ۔اسد عمر نے 24 مئی کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پارٹی عہدے فوری طور پر چھوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات کے بعد ان کے لیے پارٹی میں کام جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔پی ٹی آئی نے اسد عمر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد عمر کے جب پارٹی یا پارٹی سربراہ سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور وہ عملدرآمد کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے تو وہ اسی وقت خود کو پارٹی سے الگ کر سکتے تھے۔سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے کہا کہ یہ صورتحال حقیقت سے متصادم ہے، اب جب ایک منصوبہ بندی کے تحت پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو انہیں پارٹی سے استعفیٰ دینا یاد آیا، اس میں ان کا ذاتی مفاد تو چھپا ہو سکتا ہے پارٹی کا نہیں۔انہوں نے اسد عمر کے اس دعوے پر بھی اعتراض کیا کہ پی ٹی آئی نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسد عمر خود یہ موقف اپنایا کرتے تھے کہ یہ جماعتیں قومی مفاہمتی آرڈیننس کے علاوہ کسی اور چیز پر کبھی بات نہیں کریں گی، اپنی کرپشن اور چوری کی معافی کے علاوہ ان سیاسی جماعتوں کا کوئی دوسرا ہدف نہ پہلے تھا نہ آج ہے۔رئوف حسن نے اپریل میں دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان ڈیل کو حتمی شکل دینے کے بارے میں سابق وزیر کا ابہام غیر واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین کی حدود میں رہ کر غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا، اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے حتمی حل کی ضمانت کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز پیش کی۔اس لیے اسد عمر اپنے ناقابل دفاع فیصلے کی توجیہات پیش کریں لیکن حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کریں۔ترجمان نے کہا کہ اسد عمر پارٹی پر مشکل وقت پڑنے سے قبل ایک اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے علیحدگی کا فیصلہ کرتے تو شاید اس میں وزن ہوتا۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…