سات روز کے اندر جیل ریفارمز کے حوالے سے حتمی تجاویز پیش کی جائیں‘حمزہ شہباز

  منگل‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2022  |  16:43

لاہور( این این آئی)وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ سات روز کے اندر جیل ریفارمز کے حوالے سے حتمی تجاویز پیش کی جائیں، بہت میٹنگز ہو چکیں، اب فیصلے کر کے قیدیوں کو ریلیف دینے کا وقت ہے۔وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت جیل اصلاحات کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہواجس میں عبدالعلیم خان، خواجہ سلمان رفیق، علی رضا، عنیزہ فاطمہ،

ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خزانہ، آئی جی جیل خانہ جات اور متعلقہ حکام نے شرکت کی، عائشہ نواز او رردا قاضی اسلام آباد سے ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جیل ملازمین کو بھی ان کا جائز حق دیں گے، وزیراعلی حمزہ شہباز کی خصوصی ہدایت پر پنجاب پریزنرز رولز میں ترامیم کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔حمزہ شہباز نے کہاکہ پریزنرزرولز کو آسان بنائیں تا کہ قیدیوں کو بنیادی سہولتیں مل سکیں، فرسودہ قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے ، ہم نے جیل نظام میں ایسی اصلاحات لانی ہیں جس سے قیدیوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں، آپ سب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ رولزقیدیوں کیلئے ہیں، قیدی رولز کیلئے نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فیصلے کریں جس سے قیدیوں کے لئے آسانیاں پیدا ہوں، جیلوں میں قیدیوں کے لئے کھیلوں کی سہولتیں فراہم کی جائیں، بیرکس میں ائرکولرزلگانے کے کام میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جیلوں میں بوسیدہ بلڈنگزکی تعمیر و مرمت کا جامع پلان تیار کیا جائے۔حمزہ شہباز نے کہاکہ قیدیوں کے کھانے کے لئے فنڈز میں مزید اضافہ کیا جائے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے عملے کے ذریعے کھانے کی کوالٹی کو باقاعدہ چیک کیا جائے، جیلوں میں فیملی رومز کے استعمال کیلئے قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں، جیل ہسپتالوں میں ضروری مشینری اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، 7 روز کے اندر جیل ریفارمز کے حوالے سے حتمی تجاویز پیش کی جائیں، بہت میٹنگز ہو چکیں، اب فیصلے کر کے قیدیوں کو ریلیف دینے کا وقت ہے۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎