پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ہم خزانہ پر بوجھ نہیں بلکہ سرکار ہماری قرض دار ہے، اس تاریخ تک پنشن بڑھا دیں، پنشنرز نے ڈیڈ لائن دے دی

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)آل پاکستان پینشنرزایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچیس فیصد اضافہ میں پینشنرز کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہے، ہم خزانہ پر بوجھ نہیں بلکہ سرکار ہماری قرض دار ہے، حکومت ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں پچیس فیصد اضافہ، پینشن میں جوتفریق رکھی ہے اسے ختم کیاجائے، پانچ

مارچ تک پینشن میں پچیس فیصد اضافہ نہ کیاگیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پینشنرزایسوسی ایشن کے سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ سید حفیظ سبزواری، ممبران سید قائم عباس شاہ پروفیسر مسعود، میجر ریٹائرڈ نعیم الدین، رانا محمد اسلم، رانا اشفاق احمد، محمد توقیر نے پیر کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کے دوران ریٹائر ملازمین کو نظر انداز کرنا سراسر ناانصافی ہے۔حکومت کی جانب سے پنشن میں اضافے سے محعروم کئے جانے پر ریٹائر ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے حکومت کی جانب سے ریٹائر ملازمین کو خزانے پر بوجھ سمجھنا ناانصافی ہے ہم حکومت پر بوجھ نہیں بلکہ سرکار ہماری قرض دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے احتجاج مین پنشنرز بھی شریک تھے وعدے کے باوجود اضافہ نہ کیا گیا فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ہونے والی سمری میں ریٹائر ملازمین کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا سرکاری ملازمین کی طرح ریٹائر ملازمین بھی مہنگائی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ریٹائر ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ہے کیا حکومت یہ چاہتی

ہے کہ ریٹائر ملازمین بھی مہنگائی اور دیگر مسائل کا شکار ہین ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ہے کیا حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین احتجاج کا راستہ اختیار کرے۔ بزرگ افراد اور خواتین بھی سڑکوں پر نکلیں ہم اپنے جائز مطالبات کی منطوری تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ہم

لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین کی طرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کرے۔ جن ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات رہتے ہیں حکومت فی الفور ادا کرے۔حکومت کی جانب سے جو پنشن میں تفریق رکھی گئی ہے اس کو ختم کرے۔ آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن میں وفاق، چاروں

صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ہزاروں کی تعداد میں ریٹائر ملازمین شامل ہو رہے ہیں۔ اور ملک بھر سے لاکھوں کی تعداد میں ریٹائرڈ ملازمین ہمارے ساتھ کھڑے ہیں حکومت کو 5 مارچ 2021 تک کی ڈیڈلائن دی جاتی ہے اور حکومت نے 5 مارچ تک پنشن میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا تو اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…