ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

پی ڈی ایم کی پارلیمنٹ سے استعفوں اور لانگ مارچ کی دھمکی آئی ایم ایف کی حکمت عملی بھی سامنے آگئی

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)توقع ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے کی جانے والی کوششوں میں سست روی تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ تک جاری رہے گی جس کی وجہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی 31 جنوری کو پارلیمنٹ سے استعفوں اور لانگ مارچ کی دھمکی ہے۔

آئی ایم ایف نے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے سخت معاشی اقدامات پر عمل کیلئے کورونا کی وبا کو جواز بنا لیا ہے۔ روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی شائع خبر کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف مل کر دوسرے جائزے کیلئے کام کر رہے ہیں تاکہ توسیعی فنڈ کی سہولت (ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی) کے تحت پاکستان کو 450 ملین ڈالرز کی تیسری قسط مل سکے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومت نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں تین روپے تیس پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا ہے جس کا آسان سا مطلب یہ ہوا کہ حکومت بجلی کے صارفین پر تین سو ارب روپے کا بوجھ سالانہ بنیادوں پر ڈالنے والی ہے۔ رابطہ کرنے پر وفاقی سیکریٹری فنانس کامران افضل نے جواب دیا، ہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جائزے کے عمل کی تکمیل کیلئے کام کر رہے ہیں اور اس معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

تاہم، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت تین بڑی شرائط کی بنیاد پر آئی پی پیز کے ساڑھے چار سو ارب روپے کی بقایہ جات ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ شرائط کیسے پوری ہوں گی لیکن آئندہ مہینوں کے د وران سپلائی میں درپیش رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے ملک کے طاقتور حلقے کہہ رہے ہیں کہ یہ ادائیگی کلیئر کی جائے تاکہ گردشی قرضوں کا بوجھ بجلی کی پرسکون ترسیل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…