جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

’’ ان کی بات چیت چل رہی تھی باقاعدہ کابینہ تشکیل دے تھا کابینہ کے نام فائنل ہو رہے تھے پھر۔۔شہباز شریف نے سہیل وڑائچ اور جاوید چودھری سے گفتگو میں کیا کہا تھا ؟ سینئر تجزیہ کار نے حیرت انگیز انکشاف کر دیا

datetime 3  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر نیب کسی شخص کی عدالتی احکامات یا کسی کے عدم تعاون ، غیر حاضری کی وجہ سے تفتیش مکمل نہیں کر سکتا تو پھر کیسے منطقی انجام تک پہنچے گا ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں نیب کے کچھ مقاصد ہونگے ، ایک ملزم یا مجرم کا حق ہوتا کہ قانون کا سہارا لے ۔ میرا خیال ہے شہباز شریف نیب کو لکھ کر دے چکے ہیں کہ وہ آئسولیشن میں ہیں شاید اس لیے نیب والوں نےان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ،

اس سے کیس مضبوط ہو جائے گا ، پہلے تو انہوں نے گرفتاری کا شبہ ظاہر کیا تھا لیکن بات یقینی ہو گئی ہے کہ نیب انہیں گرفتار کرنا چاہتا ہے اس کے مقاصد درست نہیں ، شاید انہیں ریلیف مل جائے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مقتدار حلقوں کے حوالے سے میں نہیں کہہ رہا میں تو ایک تاثر کی بات کی ہے ، شہباز شریف نے سہیل وڑائچ کے ساتھ گفتگو میں خود کہا تھا کہ ان کے بات چیت چل رہی تھی باقاعدہ کابینہ تشکیل دے تھا کابینہ کے نام فائنل ہو رہے تھے پھر شہباز شریف جاوید چودھری کیساتھ انٹرویو میں تسلیم کیا کہ میرے بات چیت ہوئی تھی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…