ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

بیٹی صرف خیریت سے پہنچنے کا فون کردے ، ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے رقت آمیز مناظر

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ ابھی تک اپنی بیٹی کے حوالے سے کسی طرح کی افسوسناک خبر سننے کے لئے تیار نہیں اور ان کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ انعم کی والدہ اور گھر والوں کا کہناہے کہ اس کا فہرست میں نام نہیں اور ابھی تک کچھ معلوم نہیں ۔ انعم کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ روانگی سے قبل فون کرتی اور پھر منزل پر پہنچ کر خیریت سے پہنچنے کا موبائل میسج ضرور کرتی تھی ۔

بیٹا صرف خیریت سے پہنچنے کا فون کر دے ۔ انہوں نے کہا کہ انعم زخمی ہے وہ گھر واپس آئے گی ، اللہ تعالیٰ سب کو صحت دے ۔انہوںنے کہاکہ انعم نے گزشتہ ہفتے امریکہ فلائٹ کینسل کی تھی وہ عید پاکستان میںمنانا چاہتی تھی ۔انعم کے والد اور دیگر اہل خانہ شناخت کیلئے کراچی پہنچ گئے ہیں ۔اس موقع پر انعم خان کے والد مسعود خان کا کہنا تھا انعم خان میری بیٹی نہیں بیٹا تھی، جب میں یا اس کی ماں بیمار ہوتی تھی تو وہ بیٹوں کی طرح ہمارا خیال رکھتی ، علاج کراتی ،چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنوں کا بھی خیال رکھتی ۔بھائی حمزہ کا کہنا تھا اس کو ابھی بھی بہن کے فون کا انتظار ہے ۔بد قسمت طیارے کے کپتان سجاد گل کی رہائشگاہ پر بھی تعزیت کرنے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ سجاد گل کے والد حیات گل نے کہا کہ میر ابیٹا بہادر شخصیت کا مالک تھا، انجن فیل ہونے کے باوجود مسافروں کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…