جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کشمیریوں کیلئے اپنی زمین بھارتی ہندوئوں کو فروخت کرنا شرعاً ناجائز ہے ، مفتی منیب الرحمن کا فتویٰ

datetime 6  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان کے ممتاز عالم دین اور سرکردہ مفتی ، مفتی منیب الرحمن نے فتویٰ دیا ہے کہ کشمیریوں کیلئے اپنی جائیدار بھارتی ہندوئوں کو فروخت کرنا  شرعاً ناجائز ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مفتی منیب الرحمن نے یہ فتوی ایک استفتاء کے جواب میں دیا ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ایسی صورتحال میں کشمیری اپنی جائیدادیں بھارتی ہندوئوں کو فروخت کر سکتے ہیں

جب ظالم وجابر بھارتی حکمرانوں نے کشمیرکے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کرنے کیلئے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی ہے ۔مفتی منیب الرحمن نے واضح کیا کہ شریعت کے مطابق کشمیریوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی جائیدار ہندوئوں کو فروخت کریں یا انہیں کرایہ پر دیں۔ انہوں نے قرآن پاک کی کئی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کفار مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور انکی زمینوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کررکھا ہوجیسے بھارت جموںو کشمیر پر قابض ہے توایسی صورت میں مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے لیے ناجائز اور گناہ ہے کہ وہ اپنی جائیدادیں ہندوئوں کو فروخت کریں کیونکہ ایسا کرنا ظلم و زیادتی میں معاونت کے مترادف ہے۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…