ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

کسی معجزے کی امید نہ رکھیں ، وزیراعظم کے ہاتھ سے وقت نکلتا جا رہا ہے، کہ اگر بیماری کو ایسے ہی پھیلنے دیا گیا تو پھر پاکستان کی کس طرف جا سکتا ہے ؟ امریکی ادارے تھنک ٹینک نے ہوشربا انکشافات کر دیئے

datetime 29  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور اسی دوران امریکا میں قائم نامور تھنک ٹینک ’’بروکنگز انسٹی ٹیوٹ ‘ نے خبر کیا کہ ملک میں وباء کو کنٹرول کرنے کیلئے معاملے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ہاتھ قیمتی وقت نکلتا جارہا ہے ۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض کے

پھوٹنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والےبحران سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم کی مقبولیت کم ، اپنی پوزیشن میں ان کی غیر یقینی صورتحال اور ایسے کسی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ان میں تجربے کا فقدان ہے ۔ ایک ایسے موقع پر جب مسلم اکثریتی ممالک بشمول سعودی عرب نے نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے ، پاکستان میں مساجد بدستور کھلی ہیں ، ملک میں صحت کے شعبے کا یہ حال ہے کہ سہولتیں پرانی ، متروک یا پھر محدود ہیں ۔ مہنگے نجی اسپتال صرف امیروں یا اشرافیہ کو دستیاب ہیں لیکن ان میں بھی کرونا وائرس سے نمٹنے کی صلاحیت کم معلوم ہوتی ہے کیونکہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کی صورت میں ان میں اتنی طاقت نہیں کہ سب کا علاج کرسکیں ۔ ڈاکٹروں کے پاس نجی حفاظتی سامان تک نہیں ہے جبکہ ہر 9میں ایک متاثرہ شخص ڈاکٹر ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بیماری کو ایسے ہی پھیلنے دیا گیا تو نتائج تباہ کن ہوں گے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ سے قیمتی وقت نکلتا جارہا ہے اور ان کی سستی عوام میں بے یقینی پھیلا رہی ہے ، صورتحال کی سنگینی کے باوجود دیکھا جائے تو 26مارچ کی اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم نہیں تھے ، سرکردہ کردار اسد عمر نے ادا کیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کھلے دل کے ساتھ ملک بھر میں لاک ڈائون نافذ کریں ، مساجد کی بندش بھی ضروری ہے ، تاہم کسی معجزے کی امید نہیں رکھنا چاہیے ۔ ان اقدامات کا متبادل تباہی کے سوا کچھ نہیں اور ایسی صورتحال میں کوئی ملک بالخصوص پاکستان تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…