بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

لاک ڈائون سے مختلف بازاروں میں خود ساختہ مہنگائی کو پر لگ گئے، اشیاء خور و نوش کی قیمتیں غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئیں

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

مہمند(آن لائن ) ضلع مہمند ،لاک ڈاون سے مختلف بازاروں میں خود ساختہ مہنگائی کو پر لگ گئے،۔اشیاء خوردونوش کی قیمتیںغریب عوام کی پہنچ سے باہر۔ مقامی انتظامیہ بڑھتے ہوئی خودساختہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔اورگراں فروش دکانداراپنی من مانی ریٹس پر اشیاء خوردونوش فروخت کرتے ہیں۔انتظامیہ ہر تحصیل اور ہر علاقے تک فوڈ سپلائی ممکن بنائیں۔قبائیلی عوام بھی اس ایمرجنسی کی حالات میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

حکومت علاقے میں تھری جی فور جی انٹر نیٹ سروس ایمرجنسی بنیادوں پربحال کریں۔انٹرنیٹ سروس کی بندش کی وجہ سے علاقے کے زیادہ تر عوام کرونا وائرس کی تباہی اور اگاہی مہم سے لا علم ہیں۔ نوجوان نسل دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بازاروں میںگھومنے پھرتے نظر آتے ہیں۔انٹر نیٹ بحالی سے ہم ہم اپنی نوجوان نسل کو کرونا وائرس جیسے وبائی مرض سے بچا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ایم پی اے پی کے 103لوئر مہمند اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نثار مومندنے مہمند پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی لاک ڈاون سے سے ضلع مہمند میں خودساختہ مہنگائی کی طوفان اگئی ہے۔ اورناجائز منافع خور دکانداروں نے غریب عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ایک طرف گراں فروش دکاندار اپنی مان مانی نرخوں پر اشیاء خورونوش فروخت کرتے ہیں۔دوسری طرف مقامی انتظامیہ روزمرہ اشیاء کی قیمیتیں کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع مہمند کے ہر تحصیل اور ہر گاوں تک اشیاء خوردونوش بہم پہنچاناانتظامیہ کی زمہ داری بنتی ہے۔مقامی انتطامیہ اپنی زمہ داری کا احساس کریں۔اور علاقے میں اشیاء خوردونوش کی قلت نہ ہونے دیں۔انہوں نے کہا کدوسری اضلاع کی طرح ضلع مہمدن میں بھی دفعہ 144نافذ ہے۔مگر اس کے باوجود ہمارے نوجوان ٹراپل سواری کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر انظر آتے ہیں۔اور بازاروں میں ہجوم بناکر گھومتے پھرتے ہیں۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع مہمند میں ایمرجنسی بنیادوں پر تھری جی اور فور جی سروس بحال کیا جائے۔تاکہ عوام کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور اگاہی مہم سے باخبر رہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…