جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

لاک ڈائون سے مختلف بازاروں میں خود ساختہ مہنگائی کو پر لگ گئے، اشیاء خور و نوش کی قیمتیں غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئیں

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

مہمند(آن لائن ) ضلع مہمند ،لاک ڈاون سے مختلف بازاروں میں خود ساختہ مہنگائی کو پر لگ گئے،۔اشیاء خوردونوش کی قیمتیںغریب عوام کی پہنچ سے باہر۔ مقامی انتظامیہ بڑھتے ہوئی خودساختہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔اورگراں فروش دکانداراپنی من مانی ریٹس پر اشیاء خوردونوش فروخت کرتے ہیں۔انتظامیہ ہر تحصیل اور ہر علاقے تک فوڈ سپلائی ممکن بنائیں۔قبائیلی عوام بھی اس ایمرجنسی کی حالات میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

حکومت علاقے میں تھری جی فور جی انٹر نیٹ سروس ایمرجنسی بنیادوں پربحال کریں۔انٹرنیٹ سروس کی بندش کی وجہ سے علاقے کے زیادہ تر عوام کرونا وائرس کی تباہی اور اگاہی مہم سے لا علم ہیں۔ نوجوان نسل دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بازاروں میںگھومنے پھرتے نظر آتے ہیں۔انٹر نیٹ بحالی سے ہم ہم اپنی نوجوان نسل کو کرونا وائرس جیسے وبائی مرض سے بچا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ایم پی اے پی کے 103لوئر مہمند اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نثار مومندنے مہمند پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی لاک ڈاون سے سے ضلع مہمند میں خودساختہ مہنگائی کی طوفان اگئی ہے۔ اورناجائز منافع خور دکانداروں نے غریب عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ایک طرف گراں فروش دکاندار اپنی مان مانی نرخوں پر اشیاء خورونوش فروخت کرتے ہیں۔دوسری طرف مقامی انتظامیہ روزمرہ اشیاء کی قیمیتیں کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع مہمند کے ہر تحصیل اور ہر گاوں تک اشیاء خوردونوش بہم پہنچاناانتظامیہ کی زمہ داری بنتی ہے۔مقامی انتطامیہ اپنی زمہ داری کا احساس کریں۔اور علاقے میں اشیاء خوردونوش کی قلت نہ ہونے دیں۔انہوں نے کہا کدوسری اضلاع کی طرح ضلع مہمدن میں بھی دفعہ 144نافذ ہے۔مگر اس کے باوجود ہمارے نوجوان ٹراپل سواری کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر انظر آتے ہیں۔اور بازاروں میں ہجوم بناکر گھومتے پھرتے ہیں۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع مہمند میں ایمرجنسی بنیادوں پر تھری جی اور فور جی سروس بحال کیا جائے۔تاکہ عوام کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور اگاہی مہم سے باخبر رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…