جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

نومولود برائے فروخت ،غربت سے تنگ خاتون کی بچہ فروخت کے اعلان پر کون مدد کیلئے پہنچ گیا ، ماہانہ مقرر

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

جڑنوالہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ہائے رے غربت ، علاج کیلئے پیسے نہ ہونے پر ماں نے اپنے نو مولود لخت جگر کو فروخت کیلئے پیش کر دیا ۔ مقامی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پولیس تھانہ سٹی کو اطلاع ملنے پر دوڑیں ، رپٹ لکھنے کے بعد غربت کی ماری خاتون کو مالی امداد کی پیشکش۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس تھانہ نے رپٹ نمبر 2/30درج کرتے ہوئے

اس میں موقف اختیار کیا کہ شیرازی پارک کی رہائشی خاتون رقیہ بی بی جس کا خاوند محمد فیاض وفات پا گیا ہے مذکوریہ کے گھر میں روٹی پانی کیلئے کوئی خرچہ نہ ہے متاثرہ بی بی کے ہاں چند یوم قبل ایک بیٹھے نے جنم لیا خاتون کے پاس اپنے علاج معالجہ کیلئے رقم درکار نہ ہونے پر اس نے اپنے ننھے مولود کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ اہل علاقہ کی طرف سے فروختگی کی اطلاع پر پولیس تھانہ سٹی کے ایس ایچ او موقع پر پہنچ گئے اور خاتون کو اس فعل سے روکتے ہوئے قانونی کاروائی عمل میں لائی ۔ اعلیٰ افسران کے نوٹس کے بعد ایس ایچ او یوسف شہزاد نے بیوہ خاتون کو ماہانہ 5ہزار روپے خرچہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پولیس اقدام پر اہل علاقہ کی طرف خراج تحسین پیش کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…