اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان چین پر کس چیز کا انحصار کم کرے ؟ آئی ایم ایف نے حیران کن مطالبہ کر ڈالا

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے دورے پر آئی ایم ایف مشن نے اسٹاف سطح پر سمجھوتے کے حوالے سے اتفاق رائے کے لئے اپنے قیام میں توسیع کر دی ہے ۔ مالیات اور اخراجات میں خلاء کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں بھاری مالی خسارے کو روکنے کے لئے فوری اقدامات پر فریقین میں اختلافات موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق

ایف بی آر وصولیوں کے نظرثانی ہدف میں 5238 شارب روپے مزید کمی چاہتا ہے۔ گو کہ وزارت خزانہ اور متعلقہ حکام پس منظر میں ہونے والی بات چیت میں دعویٰ کرتے ہیں کہ مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں ہے۔ اسٹاف سطح پر سمجھوتہ جلد کسی بھی وقت طے پا جائے گا تاہم تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ بات چیت کا عمل ابھی جاری ہے اسی لئے وثوق سے حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ دوسرے تحریک انصاف کی حکومت آئندہ سال، ڈیڑھ سال تک بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کرنا نہیں چاہتی لیکن آئی ایم ایف کا استفسار ہے کہ تب بھاری مالی خسارے کو کیونکر روکا جاسکے گا۔ آئی ایم ایف نے اسلام آباد سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ چین پر اپنا تجارتی انحصار کم کر دے اور دیگر ملکوں کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کرکے دیگر بین الاقوامی آپشنز پر غور کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے قابل عمل متبادل پلان کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ دریافت کرنے پر پاکستان میں آئی ایم ایف ریذیڈنٹ چیف ٹیریسا ڈبن سانچیز نے کہا کہ جب تک بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی اس وقت تک میڈیا سے رابطہ نہیں کیا جائے گا۔ رابطہ کرنے پر وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے کچھ ارکان آج جمعہ کو کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ اسٹیٹ بینک اور حکومت سندھ کے حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…