اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان چین پر کس چیز کا انحصار کم کرے ؟ آئی ایم ایف نے حیران کن مطالبہ کر ڈالا

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے دورے پر آئی ایم ایف مشن نے اسٹاف سطح پر سمجھوتے کے حوالے سے اتفاق رائے کے لئے اپنے قیام میں توسیع کر دی ہے ۔ مالیات اور اخراجات میں خلاء کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں بھاری مالی خسارے کو روکنے کے لئے فوری اقدامات پر فریقین میں اختلافات موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق

ایف بی آر وصولیوں کے نظرثانی ہدف میں 5238 شارب روپے مزید کمی چاہتا ہے۔ گو کہ وزارت خزانہ اور متعلقہ حکام پس منظر میں ہونے والی بات چیت میں دعویٰ کرتے ہیں کہ مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں ہے۔ اسٹاف سطح پر سمجھوتہ جلد کسی بھی وقت طے پا جائے گا تاہم تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ بات چیت کا عمل ابھی جاری ہے اسی لئے وثوق سے حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ دوسرے تحریک انصاف کی حکومت آئندہ سال، ڈیڑھ سال تک بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کرنا نہیں چاہتی لیکن آئی ایم ایف کا استفسار ہے کہ تب بھاری مالی خسارے کو کیونکر روکا جاسکے گا۔ آئی ایم ایف نے اسلام آباد سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ چین پر اپنا تجارتی انحصار کم کر دے اور دیگر ملکوں کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کرکے دیگر بین الاقوامی آپشنز پر غور کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے قابل عمل متبادل پلان کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ دریافت کرنے پر پاکستان میں آئی ایم ایف ریذیڈنٹ چیف ٹیریسا ڈبن سانچیز نے کہا کہ جب تک بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی اس وقت تک میڈیا سے رابطہ نہیں کیا جائے گا۔ رابطہ کرنے پر وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے کچھ ارکان آج جمعہ کو کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ اسٹیٹ بینک اور حکومت سندھ کے حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…