مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر واشنگٹن رکاوٹ بن سکتا تھا لیکن نہیں بنا، حکومت نے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرلی

  جمعرات‬‮ 23 جنوری‬‮ 2020  |  23:46

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرلی،25 جنوری سے 5 فروری تک مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز سے لے کر ضلعی سطح تک تقریبات منعقد کی جائیں گے، 27 جنوری کو اسلام آباد میں ایک کلچرل پروگرام منعقد ہوگا اور 28 جنوری کو پورے پاکستان میں کشمیرکی جدوجہد اور متاثرین سے متعلق تصویری نمائش ہوگی،30 اور 31 جنوری کو اسلام آباد میں سیمینار اور کانفرنس منعقد ہوگی جس کی صدارت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام


کریں گے،5 فروری کو پورے ملک میں کشمیر ڈے منایا جائیگا،وزیراعظم عمران خان 5 فروری کو میرپور میں عوامی اجتماع سے خطاب بھی کریں گے،جب مسئلہ کشمیر اپنے عروج پر تھا تب مقامی کیمرے اور قلم کی ساری توجہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے پر مرکوز تھی، دھرنے کی اہمیت کے مطابق کوریج بھی ضروری تھی تاہم مسئلہ کشمیر نظر انداز نہیں ہونا چاہیے تھا،امریکی صدر بھی مسئلہ کشمیر پر مثبت پیشرفت چاہتے ہیں، بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے،کسی حد تک امریکا نے اگر مدد نہیں کی تو رکاوٹ بھی نہیں بنا،سیکیورٹی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر واشنگٹن رکاوٹ بن سکتا تھا لیکن نہیں بنا،اگر اقوام متحدہ اور امریکا نے اس مسئلے کے حل پر توجہ نہیں دی تو دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہوں گے جس کے نتائج سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔ جمعرات کو یہاں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید اور سینیٹر فیصل جاوید خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہا تاہم مقامی میڈیا دھرنے پر اپنی توجہ دے رہا تھا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دھرنے کی اہمیت تھی، اس کی کوریج بھی ضروری تھی لیکن مسئلہ کشمیر نظر انداز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اختتام کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں ہرسنجیدہ فورم پر مسئلہ کشمیر اجاگر کیا اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کو مسئلہ قرار دیا۔انہوں نے امریکی صدر کا حوالے دیکر کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر مثبت پیش رفت چاہتے ہیں لیکن بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے تقریباً 45 منٹ پر مشتمل پریس کانفرنس میں مسئلہ کشمیر سے متعلق حکومتی مؤقف پر بات کی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں امریکا مقبوضہ کشمیرپر پاکستان کا مؤقف سننے کے بعد اپنے مفادات کا جائزہ لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی حد تک امریکا نے اگر مدد نہیں کی تو رکاوٹ بھی نہیں بنا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر واشنگٹن رکاوٹ بن سکتا تھا لیکن نہیں بنا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 25 جنوری سے 5 فروری تکمسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز سے لے کر ضلعی سطح تک تقریبات منعقد کی جائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ '25 جنوری سے الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کریں گے اور اندورن اور بیرون ملک میں کشمیر کا مقدمہ پیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 27 جنوری کو اسلام آباد میں ایک کلچرل پروگرام منعقد ہوگا اور 28 جنوری کو پورے پاکستان میں کشمیرکی جدوجہد اور متاثرین سے متعلق تصویری نمائش ہوگی۔انہوں نے کہاکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ 30 اور 31 جنوری کو اسلام آباد میں سیمینار اور کانفرنس منعقد ہوگیجس کی صدارت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ 3 فروری کو اسلام آباد کے کنوینشن سینٹر میں نوجوان نسل بشول سماجی کارکنوں کے لیے پروگرام ہوگا جس میں مسئلہ کشمیر سے متعلق زمینی حقائق پر طلبہ سے تبادلہ خیال کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے متاثرین کے لیے ان کے پناہ گزین کیمپوں میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 4 فروری کو ایوان صدر میں کشمیرے ڈے کے حوالے سے تقریب کا آغاز ہوگا اور تمام سفرا کے سامنے بھارتی مظالم اور یکطرفہ اقدام سے متعلق حقائق پیش کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 5 فروری کو پورے ملک میں کشمیر ڈے منایا جائے گااور صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائیگا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 175 روز ہوگئے لاک ڈاؤن جارہی ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے،انہوں نے کہا کہ بھارت خطے کا امن داؤ پر لگا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے 16 اگست 2019 کو سیکیورٹی کونسل میں اٹھایا اور مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ 12 دسمبر کو وزیراعظم کی ہدایت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سیکیورٹی کونسل کے صدر کو مراسلہ ارسال کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 16 اگست کو معاملہ زیر بحث آیا اور کے تعاون سے ہم نے مسئلہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں 17 جنوری کو دوبارہ اٹھایا گیا۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ سیکیورٹی کونسل کے تمام 15 ممبران نے شرکت اور پوری بریفنگ کا حصے رہے۔انہوں نے کہا کہ بریفنگ کے بعد اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اور سیکیورٹی کونسل کے صدر سے ملاقات کا موقع ملا اور میں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سمیت بھارت کی عسکری سرگرمیوں سے متعلق مزید آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے ساتھ خصوصی طور پر مسئلہ کشمیر اٹھایا اور انہیں مسئلے کے نوعیت اور پیچیدگی سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک طریقے سے مسئلہ کشمیر پر موقف اپنایا کہ اگر اقوام متحدہ اور امریکا نے اس مسئلے کے حل پر توجہ نہیں دی تو دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہوں گے جس کے نتائج سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پہلی مرتبہ یورپین یونین میں مسئلہ کشمیرپر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ چاروں وزرائے اعلی اپنے صوبوں کے دارلخلافوں میں کشمیر ریلیوں کی قیادت کریں گے،وزیراعظم عمران خان مظفرآباد میں اسمبلی سے خطاب کریں گے،وزیراعظم عمران خان 5 فروری کو میرپور میں عوامی اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ کے دورہ اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر اٹھایا گیا،تہران کے دورے کے بعد جب ریاض گیا دوبارہ یہ معاملہ اٹھایا گیا تو امید ہے کہ اب وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے،وزیر اعظم نے جب ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر اٹھایا تو ان کی پوری ٹیم موجود تھی،صدر ٹرمپ نے اپنے تحفظات کا ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ مجھے تحفظات ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت اس وقت دنیا میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈاکر رہا ہے تاہم پاکستان اور وزیر اعظم کی واضح پالیسی ہے کہ ہم اس مسئلے کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی طور پر اٹھاتے رہیں گے۔

موضوعات: