مقبوضہ کشمیر میں بچوں پر تشدد،نوجوانوں کا اٹھایا جانا اور خواتین کی بے حرمتی اب کسی سے پوشیدہ نہیں، اصل حقائق سامنے کیوں نہ آ سکے؟ شاہ محمود قریشی بھارتی راز دنیا کے سامنے رکھ دیا

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  22:32

واشنگٹن (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 2019 سے اب تک لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر میں بچوں پر تشدد،نوجوانوں کا اٹھایا جانا اور خواتین کی بے حرمتی اب کسی سے پوشیدہ نہیں،ذرائع ابلاغ پر پابندی کے سبب اصل حقائق سامنے نہیں آ سکے،بھارتی سپریم کورٹ کی رولنگ کے باوجود انٹرنیٹ پر پابندی بدستور قائم ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کی بات کی ہے، بھارت کا رویہ مخاصمانہ رہا،بھارت نے صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا کیا،بھارت اپنے داخلی بدامنی سے،دنیا کی توجہ


ہٹانے کے لیے پلوامہ کی طرح کا کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے، سیکورٹی کونسل کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے،افغان طالبان کی طرف سے سامنے آنے والا بیان انتہائی حوصلہ افزا ہے،طالبان کو سازگار بنانے کیلئے آمادہ ہونے سے امن معاہدے کی راہ ہموار ہو جائیگی،امریکہ اور طالبان کو معاہدہ طے پانے کے بعد ہمیں امید ہے کہ بین الاافغان مذاکرات کا آغاز ہو گا،آزادانہ خارجہ پالیسی کیلئے معاشی استحکام کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں منعقدہ کمیونٹی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے مجھے پاکستانی کمیونٹی کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ لوگ قیمتی وقت نکال کر یہاں تشریف لائے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید صاحب کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں اس خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے کچھ دنوں سے میں ایک دارلحکومت سے دوسرے دارلحکومت سفر در سفر کر رہا ہوں کیونکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کر رہی تھی اور ہمارا خطہ کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہاکہ میں امریکہ میں انتہائی مختصر دورے پر آیا ہوں گزشتہ روز میں نیویارک میں تھا،دوسری مرتبہ،پچاس سال کے وقفے کے بعد،مقبوضہ جموں و کشمیر کا معاملہ،سیکورٹی کونسل میں اٹھایا گیا۔انہوں نے کہاکہ میں نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سیکورٹی کونسل کو خطوط لکھ انہیں خطے کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا اور میری درخواست پر یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ انہوں نے کہاکہ پچاس سال کے بعد یہ مسئلہ پہلی دفعہ اس وقت سیکورٹی کونسل میں اٹھایا گیا جب ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اقدام مسلط کیے اور ہمارے نزدیک یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ خطے کے امن و امان کے لئے بھی بہت بڑے خطرے کا مؤجب ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ میری درخواست کو چین کی حمایت حاصل ہوئی اور سیکورٹی کونسل میں اقوام متحدہ سیاسی و قیام امن سے متعلق محکموں کے مبصرین(UNMOGIP) سے بریفنگ لی گئی جس میں بہت سے اہم نکات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے نمبر پر،مبصرین نے پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کئے جانے کا اعتراف ہوا جبکہ ہندوستان کے بارے میں ایسا نہیں کہا گیا،ہندوستان سری نگر سے آگے انہیں رسائی دینے پر آمادہ نہیں ہواکیونکہ میں انہیں اپنے خطوط میں بتا چکا تھا کہبھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2019 سے اب تک لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر میں بچوں پر تشدد،نوجوانوں کا اٹھایا جانا اور خواتین کی بے حرمتی اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پیلٹ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے بھارت نے وہاں یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیںسیاسی نمائیندوں کو، گرفتار حریت رہنماؤں سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ذرائع ابلاغ پر پابندی کے سبب اصل حقائق سامنے نہیں آ سکے،بھارتی سپریم کورٹ کی رولنگ کے باوجود انٹرنیٹ پر پابندی بدستور قائم ہے،چنانچہ اس ساری بحث سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال کے بارے میں تشویش کا پہلو سامنے آیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے ایک دوسرا پروپیگنڈہ بھی سامنے آیا کہ یہ ہندوستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور سیکورٹی کونسل اس کو زیر بحث کیوں لایا جا رہا ہے،اس پر بھی واضح جواب سیکورٹی کونسل اور اقوام متحدہ کی جانب سے سامنے آیا کہ یہ متنازعہ مسئلہ دہائیوں سے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر ہے،بعض ممالک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کو دو طرفہ مذاکرات سے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بات کی گئی،اس پر بھی ہمارا موقف بالکل واضح ہے پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کی بات کی ہے لیکن بھارت کا رویہ مخاصمانہ رہا،بھارت نے صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا کیا،مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی،مزید فوجوں کو مقبوضہ کشمیر بھجوایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے اندر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے امتیازی قوانین بنائے گئے جس کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ ساتھ، وہ بھارتی جو سیکولر ہندوستان کے حامی تھے سراپا احتجاج ہیں اور احتجاج کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ  ہم نے سیکورٹی کونسل کو اپنے ان خدشات کا اظہار کیا کہبھارت اپنے داخلی بدامنی سے،دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ کی طرح کا کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے،پلوامہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے جارحیت کی جس کا ہم نے ردعمل میں جواب دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ان کے دو جہاز،حق حفاظت خود اختیاری (Self Defense)کے تحت گرائے لیکن تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا پائلٹ جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے جواباً ان کے علاقوں کو نشانہ بنایا لیکن اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو سو ہمارا جواب انتہائی نپا تلا تھا،سو، سیکورٹی کونسل میں ہونے والی گفتگو بہت اہم رہی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز مجھے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، صدر سیکورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی سے ملاقات اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کا موقع ملا،واشنگٹن میں میری پاکستان کانگریشنل کاکس،اور یو ایس کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں ہوئیں،ہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر، افغانستان اور مشرق وسطی کی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو کی،میں ان سب معزز ممبران کا شکرگزار ہوں جو وقت نکال کر تشریف لائے۔ انہوں نے کہاکہ میری امریکی سینٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کے سینئر عہدیداران سے ملاقات ہوئی اور بہت سے اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوالہذا ایک بہت ہی سودمند اور بھرپور دن بسر ہوا اب میری امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقاتیں ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ میں خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے اپنا تجزیہ ان کے سامنے رکھوں گا اور پھر مشرق وسطیٰ اور خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر ان کی رائے لوں گا کہ وہ اس سارے معاملے کو کس طرح دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پاکستان کا مثبت تشخص ابھارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،میں نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے بعد کیپیٹل ہل کے رویے میں بہت تبدیلی دیکھی- اگست 2017 کو جنوبی ایشیائی پالیسی کا اعلان ہوتا ہے اور پاکستان کو منفی درجہ دیا جاتا ہے اور آج پاکستان کی ستائش کی جا رہی ہے افغان عمل امن میں پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے،ہم نے انہیں شرپسند عناصر سے بھی خبردار کر دیا ہے جو امن مخالف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنا مصالحانہ کردار خلوصِ نیت سے ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں،افغان طالبان کی طرف سے سامنے آنے والا بیان انتہائی حوصلہ افزا ہے طالبان کو سازگار بنانے کے لیے آمادہ ہونے سے امن معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے گی،امریکہ اور طالبان کو معاہدہ طے پانے کے بعد ہمیں امید ہے کہ بین الاافغان مذاکرات کا آغاز ہو گا۔انہوں نے کہاکہ میری کوشش ہوگی کہ سیکریٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو سے ہونیوالی ملاقات میں انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کروں کیونکہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو خطے میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خطے میں امن کے متمنی ہیں تاکہ ہم پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کی طرف توجہ مرکوز کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں معیشت مخدوش حالت میں ملی اور یہ ایک ہی رات میں اس حال کو نہیں پہنچی اس پر دہائیاں خرچ ہوئی ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہمیں، بادل ناخواستہ، گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا،میں سمجھتا ہوں آزادانہ خارجہ پالیسی کیلئے معاشی استحکام کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے کہوں گا کہ آپ امریکی کاروباری حضرات کو پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کریں تاکہ وہاں روزگار کے مواقع میسر آئیں اور معیشت کا پہیہ چلے،ہم نے کاروبار کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کیلئے نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار،پاکستان کی طرف متوجہ ہوں۔

موضوعات: