شہباز شریف کا واپسی سے انکار، پاکستان نہیں بلکہ اب کس ملک جاؤں گا؟حیرت انگیز اعلان کر دیا

  ہفتہ‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2019  |  22:45

لندن (نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنماؤں کاپارٹی صدر محمد شہبازشریف کی صدارت میں اجلاس ہوا جہاں آرمی چیف کی مدت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین کی تعیناتی سمیت دیگر پارلیمانی امور پر مشاوت کی گئی۔پارٹی صدر شہباز شریف سے مشاورت کے لیے لندن پہنچنے والے رہنماؤں میں خواجہ آصف، احسن اقبال، سینیٹر پرویز رشید، رانا تنویر حسین، سردار ایاز صادق، مریم اورنگ زیب، امیر مقام،خرم دستگیر شامل ہیں جبکہ مشاورت میں اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔مسلم لیگ (ن)کا مشاورتی اجلاس ایجویئر روڈ میں ماروش گارڈن میں ہوا جس کے بعد تمام رہنما پارٹی قائد نواز شریف


سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ روانہ ہوگئے۔ن لیگ کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح اپوزیشن کو ملیا میٹ کیا جائے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ ان کے خلاف جو ہو رہا ہے وہ نیازی نیب گٹھ جوڑ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک اور لوگوں کے مسائل کا ذرا بھی احساس نہیں ہے کیونکہ ان کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح اپوزیشن کو ملیا میٹ کیا جائے۔نواز شریف کی صحت سے متعلق سوال پر شہباز شریف نے بتایا کہ نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے، دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں۔ میاں شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واپسی کی تاریخ نہیں بتا سکتا کیونکہ ڈاکٹرز چھٹیوں پر ہیں، کرسمس کے بعد ڈاکٹرز سے اپوائنٹمنٹ طے ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹرز نے کہا تو میاں نواز شریف کو علاج کے لیے امریکہ لے کر جائیں گے۔دوسری جانب خواجہ آصف نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو حالیہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے پارلیمانی معاملات سے آگاہ کیا گیا اور ان معاملات پر ان سے رہنمائی حاصل کی گئی ہے۔ہم پاکستان واپسی پر ان معاملات میں پارٹی کی پالیسی وضع کریں گے، آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے تک کوئی بات نہیں کرسکتا۔نئے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ نئے انتخابات سے بچنے کے لیے پہلے قدم میں ان ہاؤس تبدیلی ہو۔

موضوعات: