جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کی گزشتہ 10 سالہ آڈٹ رپورٹ میں  10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مفت اوررعائتی ٹکٹ اجرا کا انکشاف،مستفید ہونے والوں میں بڑے بڑے نام شامل

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) پی آئی اے کی گزشتہ 10 سالہ آڈٹ رپورٹ میں  10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مفت اوررعائتی ٹکٹ اجرا کا انکشاف ہوا ہے۔  قومی ایئر لائن پی آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات پر مرتب 10 سالہ آڈٹ رپورٹ جمع کرادی گئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ  پی آئی اے بورڈ کے سابق چیئرمیئنز، بورڈ ارکان اور ان کے اہل خانہ پر خلاف ضابطہ نوازشات کی گئیں

اور دس سالہ مدت میں 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مفت اوررعائتی ٹکٹ جاری کئے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 سال میں مستفید ہونے والوں میں پائلٹس، سیاسی شخصیات، وفاقی سیکرٹریز، بیوروکریٹس، ٹیکنو کریٹس، صنعتکار اور تاجر شخصیات شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ریگولیشنز کے تحت بورڈ کی کمیٹی کے ہر رکن کو فی اجلاس 3500 روپے ادائیگی کی اجازت ہے اور بورڈ چیئرمین سمیت ہربورڈ رکن کو 2 طرفہ کلب کلاس ٹکٹ کے استعمال کا استحقاق حاصل ہے، لیکن اس کے برعکس بورڈ نے مختلف اجلاس میں پرسنل پالیسیز مینول میں ترامیم منظورکیں اور ان ترامیم میں مفت اور رعائتی ٹکٹ اجرا کرنے کا قانون منظور کرایا گیا۔ترامیم منظور ہونے کے بعد چیئرمین، سابق چیئرمین، بورڈ ارکان اور ان کے اہل خانہ کو مفت یا 95 فیصد رعایتی ٹکٹ اجرا کا حق حاصل ہوا، اور پھر ترامیم کے تحت ان افراد کو اندرون و بیرون ممالک کے لئے اکانومی پلس، بزنس اور بزنس پلس کلاس کے ٹکٹ 95 فیصد رعایت پر ٹکٹس جاری کئے گئے۔رپورٹ میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ مفت اور 95 فیصد رعائتی ٹکٹ ریگولیشنز برائے پی آئی اے کی خلاف ورزی ہے،  10 کروڑ سے زائد مالیت کے ٹکٹس کی خلاف ضابطہ اجرا کی ریکوری متعلقہ افراد سے کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…