جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

تاجر تنظیموں پر لاٹھی چارج، تاجروں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)تاجروں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کیا،حساس علاقے میں داخل ہونے سے روکنے پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم،تاجروں نے سرینا چوک پر لگی خار دار تاریں پھلانگنے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین پرآنسو گیس کے گولے فائر کیے۔تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے ٹیکسز، خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط اور

مذاکرات میں حیلے بہانوں سے اکتائے ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر اسلام آباد میں احتجاج کیا۔ملک بھر سے آئے ہوئے تاجر ہاکی گرانڈ میں جمع ہوئے جہاں سے شرکا نے ایف بی آر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کیلئے مارچ شروع کیا تو سرینا چوک پر انہیں روک دیا گیا۔اس دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ تاجروں نے پتھرا کیا اور سرینا چوک پر لگی خار دار تاریں پھلانگنے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں تاجروں نے سرینا چوک پر ہی دھرنا دے دیا جس پر پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی۔دوسری جانب تاجروں نے ایف بی آر حکام سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 15 اکتوبر سے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے روزانہ ایک گھنٹہ جبکہ 28 اور 29 اکتوبر کو 2 روزہ ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجر برادری کی طر ف سے ایف بی آر کو دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ہم نے احتجاج کیا،حکو مت اور ایف بی آر معیشت دشمن پالیسیوں کو زبر دستی کارو باری طبقے پر نافذ کر نے سے گریز کر ے،تاجروں کے چارٹر آف ڈیمانڈ اور مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ملک گیر شٹر ڈاو ن کی تاریخوں کا اعلان کردیں گے۔

انھوں نے کہا شناختی کارڈ کے ذریعے خرید و فروخت کی شرط کا خاتمہ مرکزی تنظیم تاجران کی کال اور ہمارے دیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ کی ملک بھر کی تمام تاجر تنظیموں نے بھی توثیق کر دی ہے۔محمد کاشف چوہدری نے کہاہم حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ملک جمہوری حکومت اور وزیر اعظم عمران خان چلا رہے ہیں یا کہ عالمی مالیاتی ادارے اگرحکومت اگر بااختیار ہے تو آئی ایم ایف کی معاشی ٹیم مشیر خزانہ،گورنر اسٹیٹ بنک و دیگر کو تبدیل کرے اور تاجروں کی سالانہ سیل پر

آسان و سادہ فکس ٹیکس اسکیم لائے،ٹرن اوور ٹیکس کی شرح کو 1.5 % سے 0.25 کرے،تاجروں کو وود ھولڈنگ ایجنٹ بنانے جیسے کالے قانون کو تبدیل کرے اور چھوٹے تاجروں کی بے مقصد سیلز ٹیکس رجسٹریشن،کھاتے و حساب کتاب رکھنے کے قانون کا خاتمہ کرے۔انھوں نے کہا ایف بی آر آڑھتیوں کی سالانہ فیسوں میں اضافہ واپس لے،جیولرز،فرنیچر،ماربل،آٹو انڈسٹری پر لگایا گیا سیل ٹیکس اور وود ہولڈنگ ختم کرے۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل آلات کیلئے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرکے واپس 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے اور 50 ہزار سے زائد کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھنے کی شرط کے خلاف تاجر برادری نے 13 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈان ہڑتال کی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…