”آزادی مارچ“مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کیاگیا تو پھر کیا ہوگا؟ جے یو آئی (ف) نے حکومت کو انتباہ کردیا

  جمعرات‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2019  |  18:15

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات وسابق سینیٹرحافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے طرز عمل کے لیے ہم نہ شکوہ کرتے ہیں نہ گلہ بلکہ ہم دعاگو ہیں کہ وہ بھی عوام کی مشکلات کو اپنی مشکلات سے زیادہ اہمیت دیں، ملک بھر کی طرح بلوچستان کے مظلوم عوام مولانا فضل الرحمن کی آواز پر لبیک کہیں گے۔جمعرات کو وہ جمعیت علمائے اسلام ضلع کوئٹہ کی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے جامعہ مطع العلوم میں خطاب کررہے تھے، اجلاس کی صدارت جمعیت ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق کررہے


تھے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ جمعیت کی ایک زریں تاریخ ہے، قومی اتحاد میں 9جماعتوں کی قیادت اور تحریک نظام مصطفی میں جے یو آئی ہر اول دستہ کے طور پر نمایاں تھی،ایم آر ڈی، اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل اور آج ایک بار پھر اپوزیشن کی قیادت اور تحریک میں مولانا فضل الرحمن ہی سب سے آگے نظر آرہے ہیں، انہوں نے کہا کہ متحدہ ہندوستان میں شیخ الہندؒ نے انگریز کی غلامی کے خلاف ’جنگ آزادی“ لڑی آج ان کا ایک فرزند ”آزادی مارچ“ کے لیے کمر بستہ ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے تحریک کے لیے مکمل حکمت عملی مرتب کرلی ہے اور اگر موجودہ حکومت مولانا فضل الرحمن کو گرفتار یا نظر بند کرتی ہے تو متبادل قیادت کی فہرست تیار ہے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہمارا ”آزادی مارچ“ ماضی کے 126دن کے نیازی دھرنے سے مختلف ہوگا جس میں طاہر القادری کے مدرسے کے بچے اور بچیاں تھیں، دوسری جانب حافظ حسین احمد نے جمعیت علمائے اسلام ضلع کوئٹہ کے معاون سیکریٹری اطلاعات مولوی محمد طاہر توحیدی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنو عاقل میں جے یو آئی کے مقامی رہنما احسان علی جتوئی کے گھر پر پولیس کاچھاپہ قابل مذمت ہے،آئی جی سندھ پولیس واقعے کی تحقیقات کرکے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور نااہل حکمرانوں کے خاتمے کے لیے قوم کی قیادت کررہے ہیں موجودہ حکمرانوں کا مزیداقتدار پر مسلط رہنا ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔

موضوعات:

loading...