اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر نے بجٹ بنانے کے نام پرکروڑوں کا ڈاکہ ڈالنے کیلئے تمام انتظامات کرلئے،ڈکیتی میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران بھی شامل

datetime 1  جولائی  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) ایف بی آر نے بجٹ بنانے کے نام پرکروڑوں روپے کا ڈاکہ ڈالنے کیلئے تمام انتظامات کرلئے ہیں ، اس ڈکیتی میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران کو بھی شامل کرلیا ہے۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے حکام ہر سال بجٹ بنانے کے نام پر ریوارڈ (انعام) کے نام پر قومی خزانہ سے کروڑوں روپے کا ڈاکہ ڈالتے ہیں ۔

بڑے افسران پانچ بنیادی تنخواہ جبکہ چھوٹے ملازمین میں تین تنخواہوں پر مشتمل ریوارڈ حاصل کرتے ہیں ۔یہ پریکٹس گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس ڈکیتی میں دونوں سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران بھی ملوث ہیں ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے تمام اداروں کو سادگی کا حکم دے رکھا ہے اور ریوارڈز کے نام پر کروڑوں روپے کی ڈکیتی سے منع کر رکھا ہے تاہم ایف بی ار حکام نے اس کا بھی حل نکال لیا ہے اس لئے انہوں نے اے جی پی آر حکام کو اس ڈکیتی میں شامل کرتے ہوئے ان سے کیش کی صورت میں کروڑوں روپے کی وصول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ بینکنگ ٹرانزیکشن کی زحمت سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام اے جی پی آر سے کیش کی صورت میں کروڑوں روپے وصول کرکے تمام ملازمین اور افسران میں تقسیم کرینگے تاکہ اس رقوم کا کوئی دستاویزاتی ثبوت بھی سامنے نہ آئے ۔اس حوالہ سے وزیر مملکت حماد اظہر سے پوچھا گیا کہ ریوارڈز کے نام پر کروروں روپے کی ڈکیتی روکیں گے یا نہیں تاہم وزیر مملکت حماد اظہر نے اس ریوارڈز کے نام پر کروڑوں کی ڈکیتی کی تردید کی ہے بلکہ پوچھنے پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…