قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کا مبینہ رقص اور اشارے، نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

  بدھ‬‮ 12 جون‬‮ 2019  |  20:37

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بجٹ تقریر کے ختم ہونے کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپوزیشن کو فاتحانہ انداز میں اشارے کیے، وزیراعظم کے اس عمل پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے انتہائی طنزیہ انداز میں ٹوئٹ کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے وزیر کے آئی ایم ایف کا بجٹ پیش کرنے پر ایوان میں رقص کیا، بجٹ میں ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا، اس سیافراط زر اور بے روز گاری میں اضافہ ہو گا،انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ریکارڈ رہے گا کہ ہماری معیشت جل رہی تھی اور عمران


خان رقص کر رہا تھا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے صوبائی وزرا کا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ کا زکر کرکے سلیکٹیڈ حکمرانوں نے غریب مکا بجٹ پیش کیا،پیپلز پارٹی نے این آر او مانگا اور نہ کسی این آر او کی ضرورت ہے آپ نے اپنے دس ماہ میں جو تباہی کی ہے اس کی بھی تحقیقات کریں، آپ کے اردگرد بیٹھے لوگ نواز شریف کے دائیں بائیں بیٹھے تھے ان کے خلاف انکوائری سے شاید ان کی چیخیں نکل جائیں گرفتاریوں کی پیش گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے پیچھے پی ٹی آئی ہے عمران خان چندہ چور ہے کمیشن بنانا ہے تو انیس سو ننانوے سے بنائیں ملک کا سب سے بڑا معاشی دہشتگرد عمران خان ہے۔ یہ بات مشیر اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب، سعید غنی اور ناصر شاہ سمیت دیگر وزرا نے بدھ کوسندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔بیرسٹر مرتضی وہاب اور دیگر صوبائی وزرا نے کہا کہ کہ ریاست مدینہ کاذکر کرکے عوام دشمن بجٹ پیش کیا غریب مکاو بجٹ دیاہے احتساب سے کس نیروکا ہیاحتساب ہوانتقام نہیں ہونا چاہئییجھوٹیمن گھڑت اورجعلی کیسز ہیں امید ہیں عدالتوں میں ہم سرخرو ہونگے وہ پیسے اکاونٹس سے گئے جن کاریکارڈ ہمارے پاس ہے وزیراعظم کو شرم آنی چاہیے خیبرپختون خوا حکومت نے دوہزارتیرہ سے ریکارڈ قرضے لیے علیمہ باجی کے پاس پیسے کہاں سے آئے پیپلزپارٹی کی قیادت کارکنان جیلوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ گرفتاریوں کی پیش گوئی ثابت کرتی ہے کہ ان کے پیچھے پی ٹی آئی ہے ہمارا فیصلہ بلاول بھٹو زرداری کرتے ہیں اور جیالے اسکو قبول کرتے ہیں وزرا کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں کے پیچھے تحریک انصاف ہے ہم اصلی جماعت ہیں جیالے قیادت کے فیصلے کو تسلیم کریں گے زرداری پیپلز پارٹی کے ہی نہیں ریاست کے لیڈر ہیں زرداری نے گیارہ سال جیل کاٹی تو مسکراکر زندگی گذاری رہائی اور صدارت کے بعد مزدور خواتین کو مستحکم کیا اور این ایف سی دیا وہ تاریخ کا خوبصورت حصہ ہےاحتجاج صرف جلاؤگھیراؤ اور عوام کو تکلیف مین ڈالنے کا نام نہیں ہم جمہوری اور قانونی انداز میں احتجاج کیا ہے ریاست مدینہ کا ذکر کرکے جو بجٹ لائے اور فیصلے کیئے وہ قابل شرم ہیں۔ بجٹ میں اثرات عام آدمی ہر پڑے گا احتساب سے انکار نہیں مگر انتقام نہیں ہونا چاہیے انکی جو زبان ہے درست نہیں زرداری پر الزام غلط ہیں ہم سرخرو ہونگے اکاوؤنٹس سے پیسے منقلی کے الزام غلط ہیں پیسے کاشتکاروں سے منتقل ہوئے احتساب کرنا ہے تو علیمہ باجی کے پیسے کہاں سے آئے پیپلز پارٹی پر الزام لگائے جاتے ہیں تو بحیثیت حکومت لگتے ہیں مگر پی ٹی آئی تو بطور جماعت کرپٹ ہےصدر عارف علوی اور پرویز خٹک سمیت تمام رہنماؤں نے اپنے الیکشن میں پیسے خرچ کیئے اس جماعت نے عوام سے چندے لیئے ان میں بھی کرپشن کی گئی یہ جماعت اور ان کے رہنما بھی کرپٹ ہیں تو ان سے اچھائی کیا ہوگی یہ پی ٹی آئی کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے حکومت کے دعوے غلط ہیں وزیر اعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہین لیگ نے جو ٹیکس چھوٹ دی وہ غلط تھی مگر انہوں نے تو اپنوں کو نوازنے کے لیئے اس میں بھی اضافہ کیا ان کو دوسروں پر الزام زیب نہیں دیتا دس سال کیوں پیچھے بھی جائیں شوکت عزیز اور حفیظ شیخ بھی رگڑے میں آئیں گے ہم تو خوش ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا معاشی دہشتگرد عمران خان ہے احتساب کے لیئے کمیشن صرف دس سال نہیں آمروں کے دور کا بھی کیا جائے۔

موضوعات:

loading...