قومی اسمبلی میں علیٰ عہدے پر فائز شخصیت نے خاتون افسر کوتعلقات قائم نہ کرنے پر ذاتیات کا نشانہ بناڈالا،افسوسناک انکشافات

  منگل‬‮ 12 فروری‬‮ 2019  |  20:27
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں ایک اور خاتون افسر کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے (ر) نامی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریسرچ نے ڈی جی پروٹوکول و تعلقات عامہ وسیم اقبال کے خلاف محتسب انسداد ہراسیت کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی جی پروٹوکول نے تعلقات قائم نہ کرنے پر میرے آے سی آرز خراب کردیںدرخواست میں کہاگیا ہے کہ پہلے بھی میری اے سی ارز دبائی رکھی تھی اور مسلسل خصوص تعلقات قائم کرنے زور دیتا رہامیرے انکار پر مجھے دھمکیاں دیں اور آے سی آرز خراب کردی جس سے میری ترقی کا عمل متاثر ہوا ہے انہوں نے محتسب برائے انسداد حراسیت کو انصاف دلانے کی درخواست کی ہے اس سلسلے میں جب خاتون سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ اس حوالے سے اعلی سطحی فورم سے رجوع کرچکی ہوں انھیں اس بارے میں فیصلہ کرنے دیں اس حوالے سے جب وفاقی محتسب برائے ہراسیت سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ ماتحت افسر کی درخواست پر ڈی جی پروٹوکول و تعلقات عامہ وسیم اقبال سے بیس فروری تک جواب مانگ لیا ہے جبکہ گذشتہ روز ڈی جی پروٹوکول کی جگہ ان کے وکیل محتسب برائے ہراسیت کے دفتر میں پیش ہوا او ر جواب دینے کیلئے وقت مانگ لیا ہے جبکہ سیکرٹری قومی اسمبلی کو بھی اگاہ کردیا گیا ہے اس حوالے سے ترجمان قومی اسمبلی نے بتایاکہ یہ فریقین کا انفرادی معاملہ ہے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے واضح رہے کہ اس سے قبل بھی قومی اسمبلی کی ایک خاتون سیکیورٹی اہل کار نے سابق سارجنٹ ایٹ ارمز پر ہراساں کرنے کا الزام لگا یا تھا جس پر سابق سپیکر نے تحقیقات کے بعد سارجنٹ ایت ارمز کو فارغ کردیا تھا۔  ایک اور خاتون افسر کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے

موضوعات:

loading...