جہانگیر ترین خود تو آنہیں سکتے مگر عثمان بزدار کی جگہ کسے وزیراعلیٰ بنوانا چاہتے ہیں؟ویڈیو لیک کروانے کا مقصد کیا تھا؟معروف صحافی کے سنسنی خیز انکشافات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

  اتوار‬‮ 11 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  13:27

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جہانگیر ترین خود تو نہیں آسکتے مگر وہ اپنے کسی منظور نظر ایم پی اے کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانا چاہتے ہیں، چوہدری سرور کی شکایت لگانے کا مقصد بھی دراصل ان ڈائریکٹ عثمان بزدار کو ہٹ کرنا تھا، معروف اینکر علی حیدر نے سنسنی خیز انکشافات کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف اینکر علی حیدرنے انکشاف کیا ہے کہ عثمان بزدار اور چوہدری سرور کے درمیان بہترین تعلقات ہیں اور وزیراعلیٰ ہفتے میں دو یا تین بار گورنر پنجاب چوہدری سرور کے پاس جاتے ہیں اور دونوں گورنر ہائوس میں


واک بھی کرتے ہیں، گورنر پنجاب کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مکمل سپورٹ حاصل ہے اور عمران خان بھی عثمان بزدار کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔ علی حیدر کا کہنا تھا کہ عمران خان جب بھی آتے ہیں وہ عثمان بزدار کو کیسے انہوں نے وزیراعلیٰ کیلئے سلیکٹ کیا اور عثمان بزدار کو وہ مکمل سپورٹ کرنے اور انہیں شاباشی دینے کا اظہار کرتے ہیں جس سے کئی دلوں پر مونگ دلنے ہو جاتی ہے جس کا ایک مظاہرہ جہانگیر ترین اور پرویز الٰہی کی ملاقات کی لیک ویڈیو میں بھی ہوتا ہے۔ علی حیدر نے انکشاف کیا کہ جہانگیر ترین عثمان بزدار کے بجائے اپنے کسی منظور نظر ایم پی اے کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانا چاہتے ہیں اور چوہدری سرور کی شکایت لگانے کے پیچھے دراصل ان ڈائریکٹ عثمان بزدار کو ہٹ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار جہانگیر ترین کے کنٹرول میں نہیں ہیں وہ چوہدری سرور کے زیادہ قریب ہیں، لہٰذا بادشاہ پر ڈائریکٹ اٹیک تو ہو نہیں سکتا تھا۔ جہانگیر ترین اور پرویز الٰہی کے درمیان ہونیوالی ملاقات کی ویڈیو دراصل خود لیک کی گئی اور یہ اپنے ہی میڈیا سیل کے ذریعے جاری کروائی گئی ہے جس کا مقصد عمران خان تکشکایت پہنچانا تھا۔ اس موقع پر علی حیدر نے پی ٹی آئی کی ایم پی اے کنول شوزب سے سوال کیا کہ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے آپ کی حکومت بنے ہوئے اور اتنے بڑے عہدے کیلئے سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔ جس پر کنول شوزب کا کہنا تھا کہ جنہوں نے یہ شکایت لگائی ہے آپ کو اس حوالے سے ان سے سوال کرنا چاہئے تھا ، ابھی میں ایک اور پروگرام میں بیٹھی ہوئی تھی جس میں پرویز الٰہیاور جہانگیر ترین ملاقات میں موجود طارق بشیر چیمہ نے اپنی بات کھل کر کہی ہے۔آپ نے اس حوالے سے کانسپریسی تھیوریزبہت اچھی طرح سے بنا لی ہےاور اس حواے سے پاکستانی خود کفیل ہیں۔کنول شوزب نے کہا کہ خبر کو ٹویسٹ کیا جاتا ہے اور ایسے پتہ چلتا ہے کہ جیسے پیچھے کوئی جیمز بانڈ آپریٹ کررہا تھا۔ جب لوگ آپس میں بیٹھے ہوتے ہیں تو وہ ایزی انداز میں بات کرتے ہیں۔آپ ایک فیملی میں بھی ہوتے ہیں تو دو بہن بھائیوں کو بھی آپس میں ایشوز ہو سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بہن بھائی نہیں رہیں گے۔ ویڈیوز بننا اور پھر وائرل ہونا آج کے دور میں کوئی بڑی بات نہیں۔ میں آپ کو یہاں ایک بات پورے یقین کیساتھ واضح کردوں کہ اس تمام معاملے میں نہ تو چوہدری سرور نے عثمان بزدار کے حوالے سے کوئی بات کی ہے اور نہ ہی عثمان بزدار نےچوہدری سرور کے حوالے سے کوئی بات کی ہے۔ اور آپ نے خود اپنی بات میں یہ چیز کہی ہے جس کی مجھے خوشی ہے ، دونوں ایک پیج پر ہیں۔ کنول شوزب کا کہنا تھا کہ طارق بشیر چیمہ نےچوہدری سرور کے حوالے سے جو بات کہی ہے وہ اپنی قیادت جو وہاں بیٹھی تھی سپیکر پرویز الٰہی اس کے سامنے کی ہے۔ ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چوہدری سرور کی ان کے حلقے میں کچھ معاملات میں انوالومنٹ ہوئی ہے۔

موضوعات:

loading...