ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

زینب کا قاتل عمران ہی نہیں مجرم بلکہ اس کے اہل خانہ بھی برابر کے شریک نکلے، ایسے انکشافات سامنے آگئے کہ جان کر آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک)قصور کے سیریل کلر عمران سے متعلق انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، بتایا جاتا ہے کہ عمران چور اور نوسر باز تھا ، میلاد کی محفلوں میں ویلیں چرانے کیلئے ان میں شامل ہوتا، پڑوسی کے گھر میں چوری کرتے پکڑا بھی گیا، پڑوسی بیوہ خاتون کی کمسن بیٹی کو چھیڑتے ہوئے بھی پکڑا گیا، ہر بار شکایت پر اہل خانہ اہل محلہ کے ساتھ مرنے مارنے پر اتر آتے اور

اس کا دفاع کرتے، قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق قصور کے سیریل کلر عمران سے متعلق انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، بتایا جاتا ہے کہ عمران چور اور نوسر باز تھا ، میلاد کی محفلوں میں ویلیں چرانے کیلئے ان میں شامل ہوتا، پڑوسی کے گھر میں چوری کرتے پکڑا بھی گیا، پڑوسی بیوہ خاتون کی کمسن بیٹی کو چھیڑتے ہوئے بھی پکڑا گیا، ہر بار شکایت پر اہل خانہ اہل محلہ کے ساتھ مرنے مارنے پر اتر آتے اور اس کا دفاع کرتےتھے۔ ملزم کے ایک محلے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تین ماہ قبل ملزم عمران کے پڑوس میں رہنے والی ایک بیوہ خاتون نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اس کی آٹھ سالہ بیٹی کو گلی میں چھیڑا ہے۔ مذکورہ خاتون نے مقامی تھانے میں ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بھی کوشش کی، لیکن پولیس نے اسے سیریس نہیں لیا۔بعدازاں جب یہ اطلاع ملزم عمران کے گھر پہنچی تو اس کی والدہ وغیرہ مذکورہ خاتون سے جھگڑے پر اتر آئے۔ قریباً ڈیڑھ ماہ پہلے ملزم اپنے پڑوسی ڈاکٹر معظم حسین کے گھر میں رات ڈیڑھ بجے چوری کی غرض سے داخل ہوا۔ آہٹ پر اہلخانہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس موقع پر بھی ملزم کے دفاع کیلئے اس کے گھر والے سامنے آئے۔ دوسری طرف زینب کے چچا امیر الحسن انصاری کا کہنا تھا ”ملزم عمران محض ایک چور او رنوسرباز ہے، اس کا نعت خوانی اور نقابت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ،

وہ میلا دکی محفلوں میں نعت خوانوں پر پھینکی جانے والی”ویلیں“ چرانے جاتا تھا۔ سہیل قادری اسے اس حرکت سے منع کرتا تھا، اسی لئے ملزم نے اس کا نام لیا ۔ ملزم نے نوسربازی کیلئے ایک جعلی وزٹنگ کارڈ بنوارکھا تھا، اب وہ خود کو بچانے کیلئے مذہب کا سہارا لے رہا ہے۔“ واضح رہے کہ زینب کے والد امین انصاری خود بھی تحریک منہاج القرآن کے سرگرم کارکن بتائے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…