وہ پاکستانی جس کے باورچی بھی شوگر مل کے مالک، جو شخصیت آپ سمجھ رہے ہیں یہ وہ ہر گز نہیں

7  ستمبر‬‮  2016

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ایک شخصیت ایسی بھی ہیں جن کے مالی اور باورچی بھی کروڑوں مالیت کے حصص کے مالکان ہیں۔ اس بات کا انکشاف مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر ظفراللہ نے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما جہانگیر ترین کے باورچی اور مالی کے نام پر سات کروڑ مالیت کے یونائٹڈ شوگر مل کے حصص موجود ہیں۔ تفصٰلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر ظفراللہ  نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اپنے مالی اور باورچی کے نام پر اپنی شوگر مل کے حصص غیر قانونی طور پر خریدے ہیں ۔

میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتےہوئے بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ یونائیٹڈ شوگر مل کی خریداری کے لئے جے ڈبلیو ٹی نے جب جہانگیر ترین کی مل خریدنے کا فیصلہ کا تو مل کے سات کروڑ مالیت کے حصص جہانگیر ترین کے مالی اور باورچی کے نام پر نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے باروچی اللہ یار اور مالی حاجی خان کے نام پر خریدے گئے یہ کروڑوں مالیت کے حصص مکمل طور پر غیر قانونی ٹریڈنگ کے ذریعے خریدے گئے۔

اس موقع پر طنز کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ “بڑے امیر ہیں یار، اللہ مجھے بھی ایسا کوئی باورچی دے دے”بیرسٹر ظفر اللہ کے مطباق اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیش آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کی جانب سے نوٹس کے اجراء کے جواب میں جہانگیر ترین نے 8 دسمبر 2007ء کو اس تمام معاملے کو تسلیم بھی کیا تھا۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…