ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس بنچ کی تشکیل کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس میں بینچ کی تشکیل کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔ پیر کو سپریم کورٹ میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ 5 ایک کی نسبت سے

سنایا اور ریمارکس میں کہا کہ چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی نظرثانی درخواستیں بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں،بینچ کی تشکیل کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی در خواست کو سنا جائیگا۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے دس دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بنچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے۔چھ رکنی بنچ نے پانچ ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا اور جسٹس منظور ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی سماعت دس رکنی فل کورٹ نے کی تھی۔نظرثانی درخواستوں پر سماعت کیلئے اکثریتی فیصلہ دینے والے چھ ججز کو بنچ بنایا گیا تھا تو جسٹس

قاضی فائز عیسیٰ اور بار کونسلز نے نظرثانی درخواستوں پر بنچ کی تشکیل چیلنج کی تھی۔فیصلہ دینے والے ایک جج جسٹس فیصل عرب نظرثانی درخواستوں سے قبل ریٹائر ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس میں نظر ثانی درخواستیں دائرکی گئی تھیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ، اہلیہ سرینا عیسیٰ سمیت مختلف بار کونسلز نے نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔نظرثانی درخواستوں میں 6 رکنی لارجربینچ کے بجائے فل کورٹ بنانے کی استدعاکی گئی تھی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے 10 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…