پٹرول ،ڈیزل کی قیمت بڑھانے کے بعد اگلے ہی دن بجلی کا فی یونٹ 3روپے 30پیسے مزید مہنگا کرنے کی تیاریاں

  ہفتہ‬‮ 16 جنوری‬‮ 2021  |  16:26

لاہور (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے لاہور سمیت ملک بھر میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 3 روپے 30 پیسے مزید اضافہ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پیپکو نے وفاقی حکومت کو بجلی کی قیمت میں مزید 3 روپے 30 پیسے یونٹ بڑھانے کیسفارش کی ہے۔ جس پر حکومت نے سوچ بیچار شروع کردیا ہے، بجلی کی قیمت بڑھنے سے بجلی کے صارفین پر 3 سو ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ جائے گا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے چند روز قبل بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 20پیسے کا


پہلے ہی اضافہ کیا تھا۔ بجلی کی قیمت میں مزید اضافے سے ملک میں پہلے سے موجود مہنگائی میں مزید طوفان برپا ہونے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خا ن نے گزشتہ روز ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی ۔ جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 20 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 95 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے جب کہ لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی گئی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کی سمری وزیراعظم کو ارسال کی تھی جس میں پیٹرول 13روپے، ڈیزل 11روپے ، لائٹ ڈیزل 15روپے33پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 10روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفار ش کی تھی تا ہم وزیر اعظم عمران خان نے اوگر کی جانب سے بھیجی گئی اس سمری کو مستر د کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے ، لائٹ ڈیزل 4روپے 42پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3روپے فی لیٹر اضا فے کی منظوری دیدی ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎