تحریک انصاف کی حکومت نے حج پیکیج میں 1لاکھ 15ہزار کا ریکارڈ اضافہ کردیا

  جمعرات‬‮ 23 جنوری‬‮ 2020  |  6:26

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ برائے مذہبی امور نے اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور کی عدم حاضری کے باعث احتجاجاً ملتوی کر دیا ۔ جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس سینیٹر عبدالغفور حیدری کی صدارت میں ہوا جس میں چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ تاخیر سے یہ اجلاس ہورہا ہے اورپھر بھی وزیر مذہبی امور تشریف نہیں لائے۔ذیلی کمیٹی بنائی تھی کہ حج آپریشن پر صیح تجاویز آسکیں، گزشتہ سال بھی حج کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ اس سال بھی حج کرایوں میں اضافہ


کیا جارہا ہے۔ حافظ عبدالکریم نے کہاکہ ہمیں کسی نتیجہ پر پہنچانا چاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اگر قوم کا فائدہ کرنا ہے تو طریقہ کار کے مطابق چلنا ہوگا،لاہور کام تھا اس اجلاس کے لئے آج آیا ہوں۔ سینیٹر کیسوبائی نے کہاکہ اس اجلاس کا وزیر کی آمد تک بائیکاٹ کرنا چا ہیے ۔ عبد الکریم نے کہاکہ حج پیکج میں اضافہ کیا جارہا ہے اور وزارت سنجیدہ نہیں۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ وزیر کے بغیر یہ اجلاس آگے نہیں چل سکے گا۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ حکومت کی بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں سیاست ہے، ہماری کوشش ہے کہ مسئلہ سے متعلق بات کریں۔ سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے کہاکہ اس سال ایک لاکھ 79 ہزار عازمین حج جارہے ہیں، حج پیکج میں اس سال ایک لاکھ 15 ہزار اضافہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس سال نارتھ ریجن کا حج پیکیج 5 لاکھ 50 ہزار تک ہوگا، سائوتھ ریجن کا پیکیج 5 لاکھ 45 ہزار ہوگیا ہے، آپ کہتے ہیں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اس لیے پیکیج بڑھا ہے۔ سیکرٹری نے کہاکہ گزشتہ سال حج 4 لاکھ 33 ہزار تک حجاج لئے جو بچے ہر حاجی کو واپس کئے۔ایک شرح کے مطابق 37 ہزار روپے فی حاجی واپس کئے کچھ کو 60 ہزار تک واپس کئے، تقریباً 5 ارب روپے ہم نے حجاج کو واپس کئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اس سال روپے کی قدر میں گراوٹ اور ائیر لائنز کے کرایوں میں اضافہ وجہ بنا ہے۔قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس وزیر کی عدم حاضری کے باعث ملتوی کردیا گیا۔ بعد ازاں میڈیا سے با ت چیت کرتے ہوئے مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ وزیر مذہبی امور اج کی کمیٹی کے اجلاس تشریف نہیں لائے۔کمیٹی اراکین نے سخت نوٹس لیا اور احتجاج اجلاس برخاست کیا،وزیر کی عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں انکی شرکت کا کہا ۔ انہوں نے کہاکہ جب اس کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہوا ہوں تب سے وزارت سنجیدہ نظر نہیں آرہی،جتنے بھی اجلاس ہوئے ایک دو کے علاوہ وزیر نہیں آئے۔ انہوں نے کہاکہ حج پیکج اور آپریشن پر حافظ عبدالکریم کی سربراہی میں ایک زیلی کمیٹی بنائی تھی،بدقسمتی سے ذیلی کمیٹی کے اجلاسوں میں بھی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری شریک نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ وزارت سے ذیلی کمیٹی نے جواب طلب کیا تو وزارت نے معلومات فراہم نہیں کیں۔انہوںنے کہاکہ اس سے لگتا ہے دال میں کچھ کالا ہے کچھ کہتے ہیں دال ہی کالی ہوگئی ہے،یہ ایسا ادارہ ہے جس سے پوری قوم وابستہ ہے حج کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ وزارت ہر سال حج میں بے تحاشہ اضافہ کرتی ہے ،کیا وزارت اتنی خود مختار ہے کہ وہ حج پیکجز میں کمیٹیوں سے پوچھے بغیر اضافہ کرے۔ انہوںنے کہاکہ اس رقم کو دیکھا جائے تو لگتا ہے آئندہ غریب آدمی حج نہیں کرسکے گا۔وزارت نے بتایا ہے کہ ایک حج پر 5 لاکھ 74 ہزار روپے خرچہ آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس بار پیکج 5 لاکھ 74 ہزار فی حاجی پیکج ہوگا، وزارت نے اضافہ خود سے کیا،یہ من مانی ناقابل برداشت ہے،6 ماہ پہلے رقم وصول کی جاتی ہے جس پر وزارت بہت کچھ کماتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سارے لوگ انہی پیسوں پر حج کر آتے ہیں جسکا اج تک حساب نہیں دیا ،وزارت کو ایک مہلت دینا چاہتے ہیں کہ آئندہ اجلاس میں ممبران کمیٹی کے تحفظات کو دور کرے،اگر وہ نہ آئے تو ہم اس حج پالیسی کو مسترد کرسکتے ہیں،عام محنت مزدوری کرنے والے لوگ حرمین کی زیارت کو ترستے ہیں،ہم نے دیکھا ہے کہ حج کے ایام میں ہمارے حاجی رلتے ہیں،جدہ میں حجاج کی سہولت یا رہنمائی کے لئے بھی کوئی اقدام نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر وزارت اجلاس میں نہ آئی تو قانون و آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔

موضوعات: