چاول اور کینو کے علاوہ ہم تمام اشیاء امپورٹ کرتے ہیں، دنیا اگر یہ بند کر دے تو ہم قحط کا شکار ہو جائیں گے، گندم کا بحران مس مینجمنٹ نہیں یہ کرپشن کا ایک بہت بڑا سکینڈل بھی ہے‘ یہ بحران کیوں پیدا ہوا اور یہ کیسے ختم ہو گا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

  پیر‬‮ 20 جنوری‬‮ 2020  |  22:13

ہم اگر حکومت کی بیڈگورننس اور مس مینجمنٹ کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں تو بھی اس کی لاعلمی اور مشورے ناقابل برداشت ہیں‘ آپ باقی باتیں چھوڑ دیں آپ صرف خوراک کے معاملے میں ملک کے دو اہم ترین عہدیداروں کی لاعلمی ملاحظہ کر لیجیے،صدر عارف علوی غیر سیاسی صدر نہیں ہیں‘یہ باقاعدہ گلی محلے سے اٹھ کر اوپر آئے ہیں‘ اگر انہیں آٹے کے بحران کا علم نہیں تو پھر کسے ہوگا؟ اسی طرح اگر خزانہ کے مشیر ٹماٹر کے بحران کے بارے میں نہیں جانتے تو پھر کسے معلوم ہوگا‘ یہ صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے‘


آپ اب حکومت کے مشورے بھی دیکھیے، یہ لوگ حالات کی نزاکت کو جانے بغیر کیا مشورے دے رہے ہیں‘ آپ بس سنتے جائیں اور ہنستے جائیں۔ ملک اب ٹماٹروں کے بحران کے بعد گندم کے بحران کا شکار بھی ہو گیا‘ آٹا 75 روپے کلو ہو چکا ہے‘ آپ کے لیے شاید یہ بات دل چسپ ہوگی گندم پوری دنیا میں پاکستان میں سب سے مہنگی ہے‘ دوسرا ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود چاول اور کینو کے علاوہ خوراک کی تمام اشیاء امپورٹ کرتے ہیں‘ دنیا اگر صرف ہماری خوراک بند کر دے تو ہم قحط کا شکار ہو جائیں گے‘ گندم کا بحران مس مینجمنٹ نہیں یہ کرپشن کا ایک بہت بڑا سکینڈل بھی ہے‘ یہ بحران کیوں پیدا ہوا اور یہ کیسے ختم ہو گا؟

موضوعات: