بچوں سے بدفعلی کا ملزم خیبرپختونخوا حکومت کا ملازم نکلا،سہیل ایاز کی ماہانہ تنخواہ کتنی تھی؟ملزم سے متعلق مزید سنسنی خیزانکشافات

  بدھ‬‮ 13 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  10:12

راولپنڈی(این این آئی)بچوں سےبدفعلی اور اس کی لائیو ویڈیو بنانے والا عالمی گینگ کا سرغنہ خیبرپختونخوا حکومت کا ملازم نکلا۔گزشتہ روز راولپنڈی پولیس نے ملزم سہیل ایاز کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم بچوں سے بدفعلی کے جرم میں برطانیہ میں قید کاٹ چکا اور اسے اسی جرم میں وہاں سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔جب کہ ملزم اٹلی میں بھی بچوں کے ساتھ بدفعلی کے مقدمات میں عدالتی ٹرائل بھگت چکا ہے اور اسے اٹلی سے بھی اسی جرم میں ڈی پورٹ کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم پاکستان میں 30 بچوں سے بدفعلی کا اعتراف بھی


کرچکا ہے۔دوسری جانب ملزم سہیل کے خیبرپختونخوا حکومت کے ملازم ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ملزم سہیل ایاز گورننس پالیسی پراجیکٹ خیبرپختون خوا کا کنسلٹنٹ ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے بچوں سے بدفعلی کے ملزم سہیل ایاز کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق سہیل ایاز 2 سال سے گورننس پالیسی پراجیکٹ میں بطور کنسلٹنٹ کام کررہا تھا جبکہ ملزم جس پراجیکٹ میں کام کررہا تھا اور اس کی مدت ملازمت چارسال تھی۔ موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق ملزم سہیل نے محکمہ پی اینڈ ڈی کے ساتھ نومبر 2017 میں بطور کنسلٹٹ کنٹریکٹ کیا، سہیل ایاز گورننس اینڈ پالیسی پراجیکٹ میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہا تھا اور اس کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ 45 ہزار روپے تھی۔ادھر صوبائی وزیر خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس کے زیرحراست سہیل ایاز کا خیبرپختونخوا حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور ملزم خیبرپختونخوا حکومت کا ملازم ہے اور نہ حکومت کے پیرول پر ہے۔

موضوعات:

loading...